مرکزی وزیر مملکت اجے مشرا کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے این ایس یو آئی کا مظاہرہ

نیرج کندن کا کہنا ہے کہ ’’ایسا باوقار عہدہ اس شخص کے لیے نہیں ہو سکتا جو شہریوں کی عزت نہیں کرتا، کوئی بھی حکومت کسی ایسے شخص کو نہیں بچا سکتی جو کسی کی موت کے لیے ذمہ دار ہو۔‘‘

تصویر بذریعہ پریس ریلیز
تصویر بذریعہ پریس ریلیز
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے کمار مشرا ٹینی کے بیٹے کے قافلے کی کار کی زد میں آنے سے چار کسانوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس واقعہ میں اجے مشرا کا بیٹا آشیش مشرا اہم ملزم ہے اور اسی لیے اجے مشرا کے استعفیٰ کو لے کر مرکزی حکومت پر دباؤ لگاتار بڑھتا جا رہا ہے۔ آج این ایس یو آئی نے وزیر مملکت برائے داخلہ کے نرمدا اپارٹمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا منصوبہ بنایا تھا لیکن دہلی پولیس نے مظاہرین کو راستے میں ہی روک دیا اور ان کے راستے میں بریکیڈنگ کر دی۔

این ایس یو آئی کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کے عمل سے واضح اشارہ مل رہا ہے کہ بی جے پی حکومت نہیں چاہتی کہ ملزم کو اس کے جرائم کے لیے سزا ملے۔ این ایس یو آئی کے قومی سکریٹری اور میڈیا انچارج لوکیش چگ نے ایک بیان میں اجے مشرا ٹینی کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے ذریعہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اجے مشرا ٹینی کے بیٹے نے قصداً احتجاج کرنے والے کسانوں پر اپنی کار دوڑائی۔ لیکن بی جے پی حکومت اپنے وزیر کو بچانے کے لیے ہر ممکن طریقے کا استعمال کر رہی ہے۔


این ایس یو آئی کے قومی سکریٹری نیرج کندن کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ ’’ایسا باوقار عہدہ اس شخص کے لیے نہیں ہو سکتا جو شہریوں کی عزت نہیں کرتا، اور کوئی بھی حکومت کسی ایسے شخص کو نہیں بچا سکتی جو کسی کی موت کے لیے ذمہ دار ہو۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کو جھوٹ کے خلاف بولنے کے لیے اپنے اندر اخلاقی خوبیاں پیدا کرنی چاہیئں اور سچائی کا اعتراف کرنے کی ہمت دکھانی چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔