مودی حکومت کے خوفزدہ ہونے کا ثبوت ہے پیگاسس جاسوسی معاملہ: طارق انور

کانگریس جنرل سکریٹری طارق انور کے مطابق آج ملک بہت نازک دور سے گزر رہا ہے، ملک کے آئینی ادارے ختم ہو رہے ہیں، سچ بولنے والوں کو خاموش کرانے اور ڈرانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

پٹنہ: کانگریس کے جنرل سکریٹری اور سابق مرکزی وزیر طارق انور نے آج اپنے ایک بیان میں کہا کہ پیگاسس جاسوسی معاملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مرکزی حکومت ڈری ہوئی ہے اور وہ کسی بھی سطح پر جا کر اقتدار کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔

طارق انور بدھ کو یہاں راجیو گاندھی اسٹڈی سرکل کے زیر اہتمام ”بھارتیہ لوک تنتر کی جولنت چونوتیاں“ پر منعقدہ مذاکرے میں بطور مہمان خصوصی موجود تھے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ اسرائیلی پیگاسس کے توسط سے ملک کے اہم لوگوں کی جاسوسی کر کے مودی حکومت نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ خوف زدہ ہے اور کسی بھی طرح اقتدار کو کنٹرول کرنے کے لیے سب سے نچلی سطح تک گر چکی ہے۔


کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ آج ملک بہت ہی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ملک کے آئینی ادارے ختم ہو رہے ہیں۔ سچ بولنے والوں کو خاموش کرانے اور ڈرانے کے لیے حکومت کے ذریعہ پریشان کیا جا رہا ہے۔ میڈیا کو بھی سچ بتانے سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی جمہوریت کی مضبوطی کے لیے لوگوں کا اتحاد انتہائی ضروری ہے، جسے موجودہ حکومت کمزور کرنے پرآمادہ ہے۔

طارق انور نے کہا کہ ”جمہوریت ہمارے ملک کی بنیاد ہے۔ ہمارے اجداد نے جب ملک کی آزادی کی لڑائی لڑی تو انہوں نے جمہوریت کا انتخاب کیا تاکہ ملک کے ہر ایک شہری کو یکساں حقوق مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ آج جن کے ہاتھوں میں اقتدار ہے وہ لوگ غیر جمہوری ہیں۔


کانگریس جنرل سکریٹری نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ بغیر آئین کے بنا ہوا ادارہ ہے اور ملک کی جمہوریت پر اپنے اسی نظریے کو تھوپنے کا کام کر رہا ہے۔ موجودہ حکومت کے خلاف بولنے والوں کو دبانے کا کام اسی تنظیم کے پروردہ لوگ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاناشاہی کے اس دور میں لکھنے، بولنے تک کی آزادی سلب کر لی گئی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جمہوریت کو بچانا ہے تو ہمیں فاسسٹ طاقتوں کو روکنا ہوگا۔

طارق انور نے مزید کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے تمام تاناشاہ جمہوری طریقے سے منتخب ہو کر آنے کے بعد اقتدار کی لالچ میں عہدہ پر بنے رہنے کے لیے جمہوریت کا قتل کر ملک کے انتظام و انصرام کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہیں۔ موجودہ حکومت بھی اپنے نظریے کو تھوپنے کے لیے جمہوری اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش میں دن رات مصروف ہے۔


اس سے قبل پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے بہار ریاستی کانگریس کے صدر مدن موہن جھا نے کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے نوجوانوں کو آگے آنا ہوگا۔ ملک کے نوجوان اور ہر ایک شہری کو ملک بچانے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہوگا۔ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے لوگوں کو اپنے حقوق اور فرائض کے تئیں بیدار رہنے کی ضرورت ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔