پرینکا گاندھی 26 دسمبر کو لکھنؤ میں، احتجاج متاثرین کے اہل خانہ سے ملاقات کے امکانات

پرینکا گاندھی دورے کے دوران پرانے شہر جاکر متأثرین کے اہل خانہ سے ملاقات کریں گی اور صدف جعفر سے ملنے لکھنؤ ضلع جیل بھی جائیں گی، اس کے بعد ان کے بچوں سے ان کے گھر پر ملاقات کریں گی

تصویر اے آئی سی سی
تصویر اے آئی سی سی
user

یو این آئی

لکھنؤ: کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی 26 دسمبر بروز جمعرات کو لکھنؤ کا دورہ متوقع ہے جہاں وہ کانگریس لیڈر صدف جعفر سمیت شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج کے متأثرین سے ملاقات کریں گی۔ صدف جعفر کو احتجاج میں تشدد بھڑکانے کے الزام میں پولیس نے گرفتار کیا ہے۔

اتوار کو پرینکا گاندھی نے بجنور میں دو متأثرین کے اہل خانہ سے ملاقات کی تھی۔ تاہم اس ضمن میں ابھی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ ذرائع کے مطابق یوپی کانگریس صدر اجے کمار للو نے صدف جعفر سے لکھنؤ ضلع جیل میں ملاقات کے بعد اس ضمن میں دہلی رپورٹ بھیجی ہے۔ لکھنؤ میں اپنے مختصر دورے کے درمیان پرینکا گاندھی پرانے شہر جاکر متأثرین کے اہل خانہ سے ملاقات کریں گی۔ کانگریس جنرل سکریٹری صدف جعفر سے ملنے لکھنؤ ضلع جیل بھی جائیں گی اور اس کے بعد ان کے بچوں سے ان کے گھر پر ملاقات کریں گی۔


کانگریس ذرائع کے مطابق اتوار کو کانگریس لیڈر نے ضلع بجنور کے نہٹور علاقے کا دورہ کر کے مہلوکین کے اہل خانہ سے ملاقات کر کے ان کی ڈھارس بندھاتے ہوئے رنج وغم کا اظہار کیا تھا۔ وہیں دوسری جانب لکھنؤ میں چیف جوڈیشیل کورٹ نے کانگریس لیڈر صدف جعفر کی ضمانت کی عرضی خارج کردی ہے۔ صدف جمعرات سے جیل میں ہیں ان پر تشدد کو ہوا دینے کا الزام ہے۔

پارٹی ذرائع نے بتایا کہ سی جے ایم کورٹ سے ضمانت کی عرضی خارج ہونے کے بعد سیشن کورٹ میں ضمانت کی عرضی داخل کی گئی ہے جہاں اڈیشنل ڈسٹرکٹ جج (4) معاملے کی سماعت منگل کو کریں گے۔


قابل ذکر ہے کہ کانگریس رکن و سماجی کارکن صدف جعفر کو پولیس نے جمعرات کو گرفتار کرکے ان کی پٹائی بھی کی تھی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے جمعرات کو ریاستی راجدھانی لکھنؤ میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں لوگوں کو تشدد کے لئے اکسایا تھا۔ لیکن ان کی گرفتاری سے قبل ان کے ذریعہ فیس بک پر ڈالی گئی ویڈیو کے مطابق تشدد کے درمیان شرپسند عناصرکے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے پر وہ پولیس کی تنقید کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔