بلاک پرمکھ الیکشن تشدد: ’بی جے پی نے جمہوریت کو اپنے جنگل راج سے کچل دیا‘

پرینکا گاندھی نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا مبارکباد دینے والے وزیر اعظم کو نہیں پتہ کہ ان کے کارکنان نے کس طرح خواتین کی ساڑیاں کھینچی اور ان سے مار پیٹ کی؟

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش میں حال میں اختتام پذیر بلاک پرمکھ الیکشن میں بڑے پیمانے پر ہوئے تشدد کو لے کر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بی جے پی کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے ایک فیس بک پوسٹ میں الیکشن کے دوران ہوئے تشدد کے واقعات کی سلسلہ وار تفصیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ دیکھیے کس طرح اقتدار کا غلط استعمال کر بی جے پی نے ان انتخابات میں جمہوریت کو اپنے جنگل راج سے کچلنے کی کوشش کی۔

پرینکا گاندھی نے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ابھی حال ہی میں اتر پردیش میں اختتام پذیر بلاک پرمکھ کے انتخابات میں زبردست تشدد ک ے بعد بی جے پی کی جیت پر وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ سمیت تمام لوگوں نے اپنی پالیسیوں کی کامیابی کے قصیدے پڑھے۔ حالانکہ وزیر اعظم سمیت پوری بی جے پی نے بی جے پی کارکنان، لیڈران اور اراکین اسمبلی و اراکین پارلیمنٹ کے ذریعہ ان انتخابات میں کیے گئے تشدد اور غنڈہ گردی پر خاموشی اختیار کر رکھی۔ حالانکہ بی جے پی کے ذریعہ کیے گئے تشدد اور غنڈہ گردی کو پوری ریاست کی عوام نے دیکھا اور اس پر ناراضگی بھی ظاہر کی۔‘‘


کانگریس جنرل سکریٹری نے آگے کہا کہ ’’بی جے پی جسے عوام کے ذریعہ اپنی پالیسیوں پر مہر لگانا بتا رہی ہے، اس عمل کی آئیے ایک تصویر دیکھتے ہیں کہ کیسے عوام کے ذریعہ منتخب نمائندوں کا اغوا کر، ان کی نامزدگی کا پرچہ پھاڑ کر، گولی، بم، پتھر چلا کر، پولیس کے ساتھ مار پیٹ کر، اقتدار کا غلط استعمال کر بی جے پی نے ان انتخابات میں جمہوریت کو اپنے جنگل راج سے کچلنے کی کوشش کی۔‘‘

یو پی بلاک پرمکھ الیکشن میں تشدد پر ایک نظر:

  • ایٹاوا کے بڑھ پورہ بلاک میں ایس پی سٹی پرشانت کمار کو بی جے پی رکن اسمبلی سریتا بھدوریا کے کارکنان نے تھپڑ مارا، درجنوں راؤنڈ فائرنگ۔ ایس پی سٹی کیمرے پر کہتے سنے گئے کہ بی جے پی والے بم لے کر آئے تھے۔

  • سیتاپور کے پہلا بلاک پر بی جے پی امیدوار کے حامیوں کی گاڑی سے اسلحہ، لاٹھی-ڈنڈے، آتش گیر اشیاء برآمد ہوئیں۔ ایک نوجوان گرفتار ہوا۔

  • رائے بریلی کے شیوگڑھ بلاک احاطہ کے باہر بی جے پی لیڈروں نے خوب ہنگامہ کیا۔

  • سدھارتھ نگر کے نوگڑھ بلاک میں بی جے پی امیدوار کے حامیوں نے ووٹنگ کرنے جا رہے بی ڈی سی کو پولیس کی موجودگی میں کھینچ کر پیٹا۔

  • اناؤ کے میاگنج بلاک میں بلاک پرمکھ الیکشن میں کھلی غنڈہ گردی جاری، کئی بی ڈی سی اراکین کو دوڑا دوڑا کر پیٹا، کوریج کر رہے صحافیوں پر حملہ۔

  • 9 جولائی کو نامزدگی کے دوران لکھیم پور ضلع کے پسگواں بلاک میں جمعرات کو نامزدگی کے دوران بی جے پی حامیوں نے اپوزیشن پارٹی کی ایک خاتون امیدوار کی نامزدگی نہیں ہونے دی۔ خاتون امیدوار اور ان کی ساتھی انیتا کی ساڑی کھینچی گئی اور ان سے مار پیٹ اور دھکا مکی کی گئی۔

  • بہرائچ میں خاتون بی ڈی سی کے اغوا کی کوشش، مخالفت کرنے پر جیٹھ کا پیٹ پیٹ کر قتل۔

  • ایک بی ڈی سی رکن کو اس کے والد کی ’شو یاترا‘ (آخری رسومات) سے ہی اٹھا لیا گیا اور اس کے اہل خانہ نے بی جے پی والوں پر الزام لگائے۔


جس الیکشن کی جیت پر وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ سب مبارکباد دے رہے ہیں، اس میں بی جے پی لیڈروں، کارکنان نے کم از کم 50 سے زائد مقامات پر خوب تشدد برپا کیا۔ قانون اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی یا اسے اوپر سے آرڈر دے کر خاموش کرا دیا گیا۔ وزیر اعظم، یو پی کے وزیر اعلیٰ سمیت سبھی کو پتہ ہے کہ یو پی بی جے پی حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کے سبب عوام میں زبردست ناراضگی ہے۔ اب انھوں نے اغوا، گولی باری، بمبازی، پولیس کے ساتھ مار پیٹ کر، اقتدار کا غلط استعمال کر، خواتین سے بدتمیزی کے ذریعہ اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا

  • مبارکباد دینے والے وزیر اعظم جی کو نہیں پتہ تھا کہ ان کے کارکنان نے کس طرح سے خواتین کی ساڑیاں کھینچی اور ان سے مار پیٹ، دھکا مکی کی؟

  • کیا بم، گولی اور پتھر چلانے کے بی جے پی کے کارنامے وزیر اعظم جی، وزیر اعلیٰ جی کی نگرانی میں ہوئے؟

  • کیا پولیس انتظامیہ کو مار کھانے کے بعد بھی خاموش رہنے کو کہا گیا تھا اور کیا انتظامیہ کو صاف اشارہ تھا کہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی آنکھیں موند لینا ہے؟

  • کیا بی جے پی جان چکی ہے کہ اس کے آخری دن اب قریب ہیں، اس لیے زبردست تشدد کے ذریعہ جمہوریت کو تباہ کرنے میں مصروف ہے؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 12 Jul 2021, 10:20 PM