فیروز آباد میں پرینکا گاندھی کی خواتین سے ملاقات، حکومت بننے پر 8 لاکھ روزگار کا وعدہ

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’خوتین کا استحصال ہو رہا ہے، ایک گیس سلنڈر میں حکومت اپنی ذمہ داری ختم کر رہی ہے، انتخاب میں کبھی بھی خواتین کی خود مختاری کی بات نہیں ہوتی۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بدھ کے روز فیروز آباد واقع سرسا گنج میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیا۔ اس دوران انھوں نے کہا کہ کانگریس کی حکومت آنے پر 20 لاکھ روزگار دیے جائیں گے، جن میں سے 8 لاکھ خواتین کے لیے ہوں گے۔ پرینکا گاندھی نے فیروز آباد میں کئی خواتین سے ملاقات کی اور کانگریس جنرل سکریٹری کو سننے پہنچیں خواتین نے انھیں اپنے مسائل سے روشناس کرایا۔ پرینکا نے اے این ایم، آنگن باڑی کارکنان، شکشا متر سمیت اسکول کی طالبات سے بھی بات چیت کی۔

کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ خواتین کا استحصال ہو رہا ہے۔ ایک گیس سلنڈر میں حکومت اپنی ذمہ داری ختم کر رہی ہے۔ انتخاب میں کبھی بھی خواتین کی خود مختاری کی بات نہیں ہوتی۔ لڑکی ہوں، لڑ سکتی ہوں کا نعرہ خواتین کے لیے ہے۔ خواتین کو اپنی طاقت کی پہچان کرنی ہوگی۔ پرینکا گاندھی نے ایک لڑکی سندھیا کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ انھیں ملی تھی، اس نے بتایا کہ اسے تعلیم کے لیے جدوجہد کرنی پڑی۔ پانچ سال اقتدار میں رہنے کے بعد بھی آنگن باڑی، شکشا متر اور اے این ایم کی تنخواہ نہیں بڑھائی۔ کانگریس کی قومی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے خواتین کو سال میں تین سلنڈر مفت دینے، گاؤں میں خواتین کے لیے روزگار دینے اور خواتین کی عزت افزائی کی بات کہی۔


خواتین کی بھیڑ میں موجود شویتا نے سوال کیا کہ آپ کے وعدے کی گارنٹی کیا ہے؟ اس پر پرینکا بولیں ’’اسی لیے میں چاہتی ہوں کہ خواتین سمجھیں کہ کس طرح کی سیاست ہو رہی ہے۔ اسے بدلیں۔ ہم اپنے اعلانات پورے کرنے کا وعدہ کر رہے ہیں۔ ہم گارنٹی کارڈ گھر گھر بھیج رہے ہیں۔‘‘ نیہا نامی خاتون نے کہا کہ پرینکا جی نے خواتین کے لیے نعرہ ضرور دیا ہے، لیکن مسائل تو تب ختم ہوں گی جب کانگریس اقتدار میں آئے گی۔

فیروز آباد میں چوڑیاں بنانے کا کام کرنے والی شاہین نے پرینکا گاندھی سے کہا کہ وہ ایسا کچھ کریں کہ گاؤں کی خواتین کو روزگار ملے اور برابری کا حق حاصل ہو۔ اس پر پرینکا گاندھی نے کہا کہ یہ مہربانی نہیں آپ کا حق ہے۔ ہم بھرتیاں کیسے کریں گے، روزگار کیسے دیں گے، اس پر منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے، جلد ہی یہ سب کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ یو پی میں بڑی تعداد میں ملازمتیں خالی ہیں۔ جو امتحانات رد ہو گئے ہیں ان کے تعلق سے منصوبہ بندی کریں گے۔


وکیل رینا کشواہا نے کہا کہ وکلاء کے لیے کسی حکومت نے نہیں سوچا۔ کبھی بھی قتل ہو جاتے ہیں۔ نہ پنشن ہے اور نہ تحفظ۔ اس کے لیے کچھ کریں۔ پرینکا نے اس مسئلہ سے روشناس کرانے کے لیے رینا کا شکریہ ادا کیا۔ پھر نیتو نامی خاتون نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ خواتین ریزرویشن بل اب تک پارلیمنٹ سے پاس نہیں ہوا ہے۔ اس پر پرینکا نے کہا کہ یہ بل ہم لے کر آئے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔