خواتین کی آواز کو عزت سے سننے کی ضرورت ہے، پرینکا گاندھی یو پی حکومت کے رویہ سے برہم

پرینکا گاندھی نے ٹوئٹ کیا کہ گورکھپور میں گزشتہ دنوں 12 سے زیادہ لڑکیوں کی موت کے معاملہ سامنے آئے ہیں۔ ان جرائم میں سزا دلانا تو دور، کچھ معاملوں میں پولیس مرنے والی لڑکیوں کی پہچان تک نہیں کرپائی۔

پرینکا گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
پرینکا گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے اپنے فیس بک پر اتر پردیش میں خواتین کے ساتھ ہونے والے برتاؤ پر اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے تحریر کیا ہے کہ کس طرح خواتین کو نیچے دکھایا جا رہا ہے اور بر سر اقدار جماعت کے لوگ ان کے خلاف بھدے بیانات دے رہے ہیں۔

انہوں نے لکھا ہے کہ ’’اتر پردیش کے وزیر اعلی جی کے اپنے علاقہ سے آئی خبر پڑھ کر آپ کو اندازہ لگے گا کہ جس نظام نے ابھی کچھ روز پہلے خواتین کی حفاظت کو لیکر چلائے گئے ’مشن شکتی‘ کے نام کی جھوٹی تشہیر پر کروڑوں روپے بہا دیئے گئے ہوں، وہی نظام زمینی سطح پر خواتین کی حفاظت کو لے کراس قدر نیچا دکھانے والا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔‘‘

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ’خبر کے مطابق گورکھپور میں گزشتہ دنوں 12 سے زیادہ لڑکیوں کی موت کے معاملہ سامنے آئے ہیں۔ ان جرائم میں سزا دلانا تو دور، کچھ معاملوں میں تو پولیس مرنے والی لڑکیوں کی پہچان تک نہیں کر پائی۔

اتر پردیش میں خواتین کے خلاف ہر دن اوسطا 165جرائم ہونے کے معاملہ سامنے آتے ہیں۔ گزشتہ دنوں سینکڑوں معاملے سامنے آئے جن میں یا تو انتظامیہ نے متاثرہ فریق کی بات نہیں سنی یا فریادی خواتین سے ہی بدتمیزی کی گئی۔

کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ جو حکومت جھوٹی شان کے نام پر اپنی پیٹھ تھپتھپانے کے لئے کروڑوں روپے کے اشتہار دیتی ہو اس حکومت کے تھانوں میں جب خواتین شکایت لے کر پہنچتی ہیں تو تھانے میں اس پر بھدے بیان دیئے جاتے ہوں اور اس کے تئیں ہمدردی کرنے کے بجائے اس کی بے عزتی کی جاتی ہو۔

خواتین حفاظت کو لے کر ہاتھرس، اناؤ اور بدایوں جیسے واقعات میں اتر پردیش حکومت کے رویہ کو پورے ملک نے دیکھا ہے۔ خواتین حفاظت کی بنیادی سمجھ یہ ہونا چاہیے کہ خاتوں کی آواز سب سے اوپر ہو، مگر اتر پردیش حکومت نے بار بار ٹھیک اس کے برعکس کام کیے ہیں۔

اس سے یہ واضح ہے کہ ان کے لئے ’بیٹی بچاؤ‘ اور ’مشن شکتی‘ صرف کھوکلے نعرے ہیں۔ خواتین کی آواز اور ان کی آپ بیتی کو لے کر خواتین کے تئیں حکومت کو اپنا رویہ بدلنا پڑے گا اور خواتین کے ساتھ ہمدردی دکھانی پڑے گی۔ جب کوئی متاثرہ خاتون یا اس کا خاندان آواز اٹھائے تو برسر اقتدار جماعت کے لوگ ہی اس خاتون اور اس کے خاندان پر بھدے بیان دینے لگیں تو اس سے شرمناک بات کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ خواتین کے خلاف ہو رہے جرائم کو سامنے لانا، خواتین حفاظت کو یقینی بنانے کی سب سے پہلی شرط ہے۔ اس کے لئے خواتین کی آواز کو عزت سے سننا ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 13 Jan 2021, 11:46 AM
next