گھر کی دیواریں اب گائے کے گوبر کے پینٹ سے چمکیں گی!

ایک زمانہ تھا جب گاؤں دیہاتوں میں گوبر سے گھر کے صحن اور دیواروں کو لیپا جاتا تھا لیکن اب گاؤں میں بھی سیمنٹ کے پکے مکانوں کی اکثریت ہے اس لئے یہ یہ باتیں تاریخ ہوتی جا رہی ہیں

تصویر بشکریہ ٹوئٹر / @DDOdiaNews
تصویر بشکریہ ٹوئٹر / @DDOdiaNews
user

قومی آوازبیورو

مرکزی وزیر نیتن گڈکری نے ایک ایسا پینٹ لانچ کیا ہے جس میں گائے کا گوبر شامل ہے اور اس کو کھادی کمیشن نے تیار کیا ہے۔ یہ پینٹ اپنی طرح کا پہلا پینٹ ہوگا اور اس کے فائدہ کتنے بھی کوئی گنا دے لیکن سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے ایک طبقہ کے مذہبی جذبات کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

دنیا میں ویسے تو ہر چیز پر تحقیق ہوتی ہے اور حال ہی میں وبائی کورونا وائرس پر بہت تحقیق ہوئیں اور پینٹ بنانے والی کمپنیوں نے وائرس مخالف پینٹ بنانے کی تشہیر کر دی لیکن ابھی تک کسی تحقیق میں گوبر کے فائدوں پر مبنی پینٹ کی تحقیق کی خبر نہیں آئی ہے۔


کھادی کمیشن کے تیار کردہ گوبر کے پینٹ کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ ماحولیات دوست ہے، نقصاندہ پینٹ نہیں ہے اور یہ اینٹی فنگل اور اینٹی بیکٹیریا بھی ہے۔ ویسے تو اس کے آٹھ فائدے بتائے گئے ہیں۔ اس پینٹ کو گھر کی اندرونی اور باہری دونوں دیواروں پر لگایا جا سکتا ہے۔ ڈسٹیمپر اور املشن پینٹ سفید بیس میں دستیاب ہیں اور ان میں دوسرے رنگوں کو ملا کر اپنی مرضی کا رنگ تیار کیا جا سکتا ہے۔

مرکزی وزیر نیتن گڈکری نے اس پینٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس سے گاؤں کی معیشت کو فروغ ملے گا اور ایسی کوششوں سے لوگوں کی واپس گاؤں کی جانب ہجرت شروع ہو جائے گی۔ اس پینٹ کی قیمت بھی بہت کم ہے۔ ڈسٹیمپر کی قیمت صرف 120 روپے فی لیٹر ہے اور ایک لیٹر املشن کی قیمت 225 روپے ہے۔


واضح رہے گزشتہ کئی سالوں سے گائے کی ہر چیز کے استعمال پر زور دیا جا رہا ہے اور اس کو سماج کے ایک طبقہ کے مذہبی جذبات سے جوڑ کر بھی پیش کیا جا رہا ہے۔ گائے کے نام پر لنچنگ کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایسے ہم ترقی کر کے آگے بڑھیں گے یا پیچھے ہٹیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔