صحافی سلبھ سریواستو کے قتل کی تفتیش سی بی آئی سے کرائے یوگی حکومت: پرینکا گاندھی

پرینکا گاندھی نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو نوٹس میں لیں اور اس واقعے کی تحقیقات اور متاثرہ افراد کے اہل خانہ کو مالی امداد کا اعلان کریں۔

پرینکا گاندھی، تصویر @INCIndia
پرینکا گاندھی، تصویر @INCIndia
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس کی جنرل سکریٹری اوراتر پردیش کی انچارج پرینکا گاندھی نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو خط لکھ کر صحافی سلبھ سریواستو قتل کیس کی تفتیش مرکزی تفتیشی ایجنسی (سی بی آئی) سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پرینکا گاندھی نے منگل کے روز وزیر اعلی کو لکھے گئے خط میں کہا کہ سلبھ سریواستو نے پولیس کو تحریردی تھی کہ شراب مافیا غیر قانونی شراب سے متعلق ان کی خبروں سے ناراض ہیں، لہذا وہ اپنے اور اپنے کنبہ کے تحفظ کے حوالہ سے پریشان ہیں۔ لیکن ان کی درخواست پر عمل نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں شراب مافیا اور انتظامیہ کے مابین گٹھ جوڑ ہے۔ اور اسی گٹھ جوڑ کے سبب شراب مافیا بلا خوف و خطر جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں اور انتظامیہ ان کے خلاف آنے والی کسی بھی شکایت پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے اس سارے معاملے کی سی بی آئی سے تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس کی جنرل سکریٹری نے اپنے خط میں لکھا ’’اے بی پی نیوز کے صحافی سلبھ سریواستو کی 13 جون کی رات کو ضلع پرتاپ گڑھ میں مشکوک حالت میں موت ہوگئی تھی۔ وہ ایک نیوز کور کرنے کے بعد گھر لوٹ رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق وہ ایک اینٹ بھٹے کے قریب مردہ حالت میں پائے گئے ان کے سر پر چوٹوں کے گہرے نشان تھے۔


پرینکا گاندھی نے کہا کہ 12 جون کو سلبھ سریواستو نے اے ڈی جی کو مکتوب لکھا تھا کہ جس میں انہوں نے مقامی شراب مافیا سے اپنی جان اور کنبہ کے لئے خطرہ بتایا تھا، لیکن ایک دن بعد وہ مشکوک حالات میں اینٹوں کے بھٹے کے قریب مردہ پائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سلبھ سریواستو کے کنبہ کے افراد اور صحافی برادری نے اس معاملے کی سی بی آئی تحقیقات کرانے اور حقیقت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو نوٹس میں لیں اور اس واقعے کی تحقیقات اور متاثرہ افراد کے اہل خانہ کو مالی امداد کا اعلان کریں۔

وزیر اعلی کو لکھے گئے خط میں پرینکا گاندھی نے لکھا ہے کہ ریاست میں متعدد مقامات پر زہریلی شراب سے ہونے والی اموات کی اطلاعات آرہی ہیں۔ علی گڑھ سے پرتاپ گڑھ تک زہریلی شراب کی وجہ سے سینکڑوں افراد کی موت ہوچکی ہے۔ ایسی صورتحال میں کسی صحافی کو شراب مافیا کی طرف سے دھمکی دیئے جانےسے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست میں قانون کی حکمرانی ختم ہوچکی ہے۔ لہذا، ریاست میں شراب مافیا اور انتظامیہ کے گٹھ جوڑ کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔


انہوں نے وزیر اعلی کو لکھا کہ ماضی میں بلیا، اناؤ سمیت متعدد مقامات پر صحافیوں پر حملہ کیا گیا ہے۔ صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنا ریاستی حکومت کا کام ہے۔ امید ہے کہ آپ آنجہانی سلبھ سریواستو کے اہل خانہ کو انصاف کے لئے مثبت اقدامات کریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔