پرینکا گاندھی کا مودی حکومت پر حملہ، کہا 3 کروڑ سے زیادہ لوگ ہوئے بے روزگار

پرینکا گاندھی نے مودی حکومت پر بے روزگاری کو لے کر بڑا حملہ بولا ہے، انہوں نے کہا کہ روزگار دینے کے تمام وعدوں کی حقیقت یہ ہے کہ ملک کے 7 بڑے علاقوں میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بے روزگاری کے معاملے پر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے مودی حکومت پر زبردست حملہ بولا ہے، انہوں نے ٹوئٹ کر کے کہا، ’’روزگار دینے کے تمام بڑے وعدوں کی حقیقت یہ ہے کہ ملک کے سات بڑے علاقوں میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں، بڑے بڑے ناموں اور اشتھارات کا نتیجہ ہے کہ 3 کروڑ 64 لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے ہیں، تبھی تو حکومت ملازمت کے سلسلے میں بات کرنے سے کنارہ کشی کرتی ہے۔

پرینکا گاندھی کے علاوہ دگوجے سنگھ نے بھی مودی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے، انہوں نے پی ایم مودی کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں قومی شہری رجسٹریشن کی جگہ تعلیم یافتہ ہندوستانی بے روزگار شہریوں کا قومی رجسٹر بنانا چاہیے۔

کانگریس رہنما نے جہاں تعلیم یافتہ بے روزگار ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر کو ''انٹیگریٹڈ ایجنڈا' قرار دیا، وہیں این آر سی کو انہوں نے تقسیم کرنے والا ایجنڈا قرار دیا ہے، انہوں نے ٹوئٹ کر کے کہا، ’’میرے پاس ہمارے وزیر اعظم کے لئے ایک بہت ہی مثبت تجویز ہے۔ این آر سی کے بجائے جس نے پورے ملک میں سماجی بدامنی پیدا کی ہے، ان کو بے روزگار تعلیم شہریوں کا قومی رجسٹر تیار کرنا چاہیے، لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ان کا ایجنڈا تقسیم کرنے والا ہے۔

بتا دیں کہ مودی حکومت نے ایئر انڈیا میں اپنی 100 فیصد حصے داری کو بیچنے کی منظوری دے دی ہے، جو کمپنیاں اس کے حصص خریدنا چاہتی ہیں، انہیں 17 مارچ تک دستاویزات جمع کرنے ہوں گے، حکومت نے ایئر انڈیا ایکسپریس اور ایئرپورٹ سروس کمپنی AISATS کو بھی فروخت کرنے کے لئے پرائیویٹ کمپنیوں کو مدعو کیا ہے۔

اس سے پہلے بھی پرینکا گاندھی نے کم ہوتی ملازمتوں اور بڑھتی بے روزگاری پر مودی حکومت پر نشانہ سادھا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ ’’بی جے پی حکومت نے جیب کاٹ کر پیٹ پر لات ماری ہے، کھانے پینے کی چیزوں کے دام عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہو رہے ہیں، جب سبزی، تیل، دال اور آٹا مہنگا ہو جائے گا تو غریب کھائے گا کیا؟ اوپر سے مندی کی وجہ سے غریب کو کام بھی نہیں مل رہا ہے‘‘۔