ایندھن بحران کے دوران پرائیویٹ کمپنی ’نائرہ انرجی‘ کے پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
خبروں کے مطابق کمپنی نے پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔

ملک کی سب سے بڑی پرائیویٹ ایندھن خوردہ فروش کمپنیوں میں سے ایک نائرہ انرجی نے جمعرات کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔ کمپنی نے پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کی وجہ سے تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے جس کا اثر اب مقامی مارکیٹ پر بھی پڑ نے لگا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ 28 فروری کے بعد سے بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ دریں اثنا، ہندوستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی خوردہ قیمتیں طویل عرصے تک مستحکم رہی تھیں جس سے ایندھن کی مارکیٹنگ کمپنیوں پر لاگت کا دباؤ بڑھ رہا تھا۔ نائرہ انرجی ملک کے 1 لاکھ 2 ہزار 75 پٹرول پمپس میں سے تقریباً 6,967 چلاتی ہے۔ کمپنی نے اب بڑھے ہوئے اخراجات کا کچھ بوجھ صارفین پر ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے حالانکہ اس معاملے پر کمپنی کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق روس کی روز نیفٹ کی ملکیت والی نائرہ نے پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے لیکن مؤثر اضافی شرح ریاستوں کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے جو ویٹ جیسے مقامی ٹیکس پر منحصر ہے۔ کچھ مقامات پر پٹرول کی قیمتوں میں 5.30 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہوا ہے۔ وہیں ریلائنس انڈسٹریز اور بی پی کی مشترکہ کمپنی’جیو۔بی پی‘ نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔ دوسری طرف سرکاری تیل کمپنیوں انڈین آئل، بھارت پٹرولیم اور ہندوستان پیٹرولیم، جو بازار کے تقریباً 90 فیصد حصے پر کنٹرول رکھتی ہیں، اپریل 2022 سے خوردہ قیمتوں کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نجی کمپنیوں کو نقصان کے ازالے کے لیے کوئی حکومتی تعاون نہیں ملتا جب کہ سرکاری کمپنیاں قیمتوں کو کنٹرول رکھنے میں معاونت حاصل ہوتی ہے۔ مسلسل بڑھتے خسارے کی وجہ سے نجی کمپنیوں کے پاس قیمتوں میں اضافے کے علاوہ متبادل محدود ہوگئے ہیں۔ تاہم سرکاری کمپنیوں نے حال ہی میں پریمیم پیٹرول (95 آکٹین) کی قیمت میں 2 روپئے فی لیٹر اور صنعتی استعمال کے لیے بلک ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 22 روپئے فی لیٹر کا اضافہ کیا ہے۔ دہلی میں پریمیم پٹرول 99.89 روپئے سے بڑھ کر 101.89 روپئے فی لیٹر ہو گیا ہے، جبکہ بلک ڈیزل 87.67 سے بڑھ کر 109.59 روپئے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ اس کے باوجود ریگولر پیٹرول (94.77 روپئے) اور ڈیزل (87.67 روپئے) کی قیمتیں بدستور برقرار ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔