وزیر اعظم کی اخلاقی شکست، نتیجہ ہمارے حوصلے بلند کرے گا، کانگریس کا مودی حکومت پر حملہ

جے رام رمیش نے کہا، ’’2024 کے انتخابات نریندر مودی اور بی جے پی کے لئے اخلاقی شکست ہیں، جب کہ انڈین نیشنل کانگریس اور 'انڈیا اتحاد' کے لئے حوصلہ افزا ہیں‘‘

<div class="paragraphs"><p>جے رام رمیش / یو این آئی</p></div>

جے رام رمیش / یو این آئی

user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کانگریس نے ہفتہ کے روز کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو اس لوک سبھا انتخابات میں اخلاقی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ نتیجہ پارٹی اور 'ہندوستان' اتحاد کے حوصلے بڑھانے والا ہے۔ اس الیکشن میں بی جے پی نے 240 سیٹیں جیتی ہیں اور اس کی قیادت والی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے کل 293 سیٹیں جیتی ہیں۔ کانگریس نے 99 سیٹیں جیتی ہیں۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے پارٹی کے ورکنگ کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی کے اجلاسوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایکس پر پوسٹ کیا، ’’2024 کے انتخابات نریندر مودی اور بی جے پی کے لیے ایک اخلاقی شکست ہیں، جب کہ انڈین نیشنل کانگریس اور 'انڈیا اتحاد' کے لئے حوصلہ افزا ہیں۔‘‘


کانگریس لیڈر نے ایک اور پوسٹ میں کہا، ’’نریندر مودی کے لیے ڈھول پیٹنے والے ان کی اخلاقی، سیاسی اور ذاتی شکست کے مینڈیٹ میں بھی امید کی کرن تلاش کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’یہ بات بڑے پیمانے پر پھیلائی جا رہی ہے کہ جواہر لال نہرو کے بعد نریندر مودی پہلے شخص ہیں جنہوں نے لگاتار 3 مرتبہ مینڈیٹ حاصل کیا لیکن کسی پارٹی کو 240 سیٹوں تک لے جانا اور ایک ’تہائی وزیر اعظم‘ بننا کس طرح مینڈیٹ ہے، اس کی وضاحت نہیں کی جا رہی!‘‘

رمیش نے کہا، "دوسری طرف، نہرو کو 1952 میں 364، 1957 میں 371 اور 1962 میں 361 سیٹیں ملی تھیں - ہر بار دو تہائی اکثریت۔ اس کے باوجود وہ پوری طرح سے جمہوری رہے اور اپنی مسلسل موجودگی سے پارلیمنٹ کو بڑی سنجیدگی کے ساتھ آگے لے گئے۔ اور نہرو کے بعد مودی واحد شخص نہیں ہیں جنہوں نے 3 مرتبہ حلف لیا ہو، مسلسل ہو نہ ہو۔‘‘


اٹل بہاری واجپائی نے 1996، 1998 اور 1999 میں 3 بار حلف لیا اور اندرا گاندھی نے 1966، 1967، 1971 اور 1980 میں چار بار حلف لیا۔‘‘ رمیش نے دعویٰ کیا کہ ایک تہائی وزیر اعظم کے لئے ڈھول پیٹنے والے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ان کی خراب انتخابی کارکردگی کو لاجواب ثابت کرتے کے لئے کچھ بھی ڈھونڈ لیلں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔