ایمس میں آتشزدگی کی ابتدائی تفتیش کا آغاز

اسپتال کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا، ’’مائیکروبائیلوجی کی تجربہ گاہ سے آگ لگنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس نے کچھ اور تجربہ گاہوں اور دفتر کے احاطہ کو متاثر کیا ہے۔

تصویر اے آئی این ایس
تصویر اے آئی این ایس

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈکل سائنسز (ایمس) کے احاطہ میں آگ لگنے کے ہولناک واقعہ کے بعد مرکز کی طرف سے چلائے جانے والے اس اسپتال نے اتوار کے روز حادثہ کی ایک اندرونی تفتیش کا آغاز کر دیا، تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جا سکے کہ اس حادثہ کی وجہ کیا تھی اور آگ بجھانے کے اقدامات کو مزید مضبوط کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ وہیں، مرکزی وزیر برائے صحت ہرش وردھن نے اسپتال کے ڈائریکٹر اور سنیئر فیکلٹی ارکان کے ساتھ ایمس میں صورت حال کا جائزہ لیا۔

اسپتال کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا، ’’مائیکروبائیلوجی کی تجربہ گاہ سے آگ لگنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس نے کچھ اور تجربہ گاہوں اور دفتر کے احاطہ کو متاثر کیا ہے۔ اسپتال کے احاطہ کو آگ سے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے اور کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوا ہے۔‘‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’احتیاط کے طور پر ایمس انتظامیہ نے اے بی ونگ سے مریضوں کو اسپتال کے دوسرے حصوں میں منتقل کر دیا تھا۔ ان مریضوں کو واپس ان کے وارڈوں میں بھیج دیا گیا ہے۔‘‘ بیان کے مطابق ’’ایمرجنسی وارڈ اور ایمرجنسی لیباریٹریز کے ساتھ اسپتال پوری طرح سے چالو ہے۔‘‘

ایسا کہا گیا ہے کہ ایمس انتظامیہ نے آگ لگنے کی وجوہات معلوم کرنے اور سیکورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لئے اندرونی جانچ کا آغاز کر دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا، ’’ایمس میں آگ سے حفاظت کا مستقل انتظام موجود ہے۔ فائر فائٹنگ سیفٹی سسٹم کی ریگولر جانچ کے ساتھ یہاں چوبیس گھنٹے فائر بریگیڈ کے اہلکار موجود رہتے ہیں اور گلیاروں کی بھی مستقل جانچ کی جاتی ہے۔ ملازمین کو مستقل طور پر فائر فائٹنگ سسٹم کے حوالے سے بیدار بھی کیا جاتا ہے۔‘‘