ملی ٹینٹس کو مارنے سے زیادہ نوجوانوں کو ملی ٹینٹ بننے سے روکنا اہم: ڈاکٹر وید

سابق پولس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کا مستقبل ہندوستان میں ہی محفوظ ہے، پاکستان ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

جموں: جموں و کشمیر کے سابق پولس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں صرف ملی ٹنٹوں کو مارنا کامیابی نہیں ہے بلکہ نوجوانوں کو ملی ٹنٹ تنظیموں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے سے روکنا بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے نوجوانوں کا مستقبل ہندوستان میں محفوظ ہے۔ ڈاکٹر وید نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ فور جی انٹرنیٹ خدمات بحال کی جانی چاہیے۔

موصوف سابق پولیس سربراہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ 'جموں و کشمیر میں صرف ملی ٹنٹ مارنا ہی کامیابی نہیں ہے بلکہ نوجوانوں کو ملی ٹنٹ تنظیموں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے سے روکنا بڑی کامیابی ہے۔ اس کے لئے کئی اقدام کرنے کی ضرورت ہے، ایسے حالات بنانے کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی نوجوان بے کار نہ ہو، تمام شعبوں بشمول سیاحت، انڈسٹری میں تبدیلی لانی ہے اور جموں و کشمیر کا نقشہ بدلنے کی ضرورت ہے، نوجوانوں کو لگنا چاہئے کہ ہمارا مستقبل ہندوستان کے ساتھ ہی محفوظ ہے'۔

شیش پال وید نے کہا کہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کا مستقبل ہندوستان میں ہی محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'جموں و کشمیر کے نوجوانوں کا مستقبل ہندوستان میں ہی محفوظ ہے، پاکستان ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے، وہ یہاں کے نوجوانوں کا ہمدرد نہیں ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کشمیر میں ایسی سرگرمیاں شروع کریں کہ جس سے یہ بچے بھی محسوس کرسکیں کہ ان کا مستقبل ہندوستان میں ہی محفوظ ہے'۔

انٹرنیٹ کی بحالی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 'میں سمجھتا ہوں کہ وقت آگیا ہے کہ فور جی انٹرنیٹ خدمات کو بحال کیا جانا چاہیے تاکہ لوگ باقی دنیا کے ساتھ جڑ سکیں'۔ موصوف نے کہا کہ پاکستان پہلے سے ہی مقامی ملی ٹنٹوں پر زیادہ بھروسہ نہیں کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'پاکستان پہلے سے ہی مقامی ملی ٹنٹوں پر کم بھروسہ کرتا ہے۔ نوے کی دہائی میں بھی جب مقامی لڑکوں نے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ یا حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کی تھی تو ان پر بھروسہ نہ کر کے جیش محمد، لشکر طیبہ جسی تنظیموں کو متعارف کیا گیا تھا۔ اب ما بعد برہان وانی ہلاکت مقامی لڑکوں کی ملی ٹنٹ تنظیموں میں کافی تعداد میں شمولیت اختیار کرنے کو پاکستان دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ سب مقامی ہیں'۔

وادی میں دو سیاسی کارکنوں کی حالیہ ہلاکتوں کے بارے میں پوچھے جانے پر شیش پال وید نے کہا کہ 'جو بھی وادی میں ہندوستان کے حق میں آواز اٹھاتا ہے ملی ٹنٹ یا آئی ایس آئی اس کو نشانہ بناتے ہیں، اجے پنڈتا اور وسیم باری کی ہلاکتوں کی وجہ بھی یہی ہے اس کے علاوہ نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور کانگریس کے کارکنوں کو بھی مارا گیا ہے'۔

جموں و کشمیر میں ملی ٹنسی کے خاتمے کے بارے میں پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 'جموں و کشمیر میں ملی ٹنسی کا خاتمہ ممکن ہے لیکن اس کے لئے دراندازی بند ہونی چاہیے اور سامان آنا بند ہونا چاہیے اور نوجونوں کو ملی ٹنٹوں کے صفوں میں شامل ہونے سے روکا جانا ضروری ہے'۔ ڈاکٹر وید نے کہا کہ ہمیں صرف جموں وکشمیر کو جغرافیائی طور پر ملک کے ساتھ نہیں جوڑنا ہے بلکہ لوگوں کو بھی ملک کے ساتھ ہر لحاظ سے جوڑنا ہے۔

Published: 27 Jul 2020, 4:58 PM
next