اتر پردیش کی 8 سیٹوں پر ووٹنگ کل، بی جے پی مشکل میں

اتر پردیش میں کل آٹھ سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی اور اس مرتبہ سال 2014 والی لہر نہ ہونے کی وجہ سے بی جے پی مشکل میں نظر آرہی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

دوسرے مرحلہ کے لئے کل ووٹنگ ہونی ہے اور اس مرحلہ میں اتر پردیش میں 8 سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی۔ ان سیٹوں میں نگینہ، امروہہ، بلند شہر، علی گڑھ، ہاتھرس، متھرا، آگرا اور فتح پور سیکری کی سیٹیں شامل ہیں۔ سال 2014 میں جب مودی لہر تھی اور سماجوادی پارٹی، بی ایس پی اور آر ایل ڈی نے علیحدہ علیحدہ چناؤ لڑا تھا تب بی جے پی نے ان تمام سیٹوں پر اپنی جیت درج کی تھی۔ اس مرتبہ مودی لہر نہ ہونے کی وجہ سے اور ریاست میں حزب اختلاف کی تین بڑی پارٹیوں کے اتحاد کی وجہ سے بی جے پی کے لئے بہت پریشانیاں ہیں اور حالات یہ بتا رہے ہیں کہ کہیں یہ ساری سیٹیں بی جے پی کے ہاتھ سے نہ نکل جائیں۔

مغربی اتر پردیش کی نگینہ سیٹ جہاں مسلمانوں کی 30 فیصد آبادی ہے اور دلتوں کی 20 فیصد آبادی ہے یہ سیٹ دلتوں کے لئے ریزروڈ ہے۔ یہاں سے پچھلی مرتبہ بی جے پی کے امیدوار کو تین لاکھ ساٹھ ہزار سے زیادہ ووٹ ملے تھے جبکہ بی ایس پی اور ایس پی امیدواروں کو ملے ووٹوں کو جمع کر دیں تو ان کو 5 لاکھ ووٹ ملے تھے۔ کیونکہ اس مرتبہ تین پارٹیوں کا اتحاد ہے اس لئے یہاں سے بی جے پی کے جیتنے پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔

امروہہ پارلیمانی سیٹ پر اقلیتوں کی آبادی 34 فیصد ہے جبکہ 18 فیصد دلت اور 10 فیصد جاٹ ووٹر ہیں، اس سیٹ سے مایاوتی، اکھیلیش اور اجیت سنگھ کی پارٹیوں کا متحدہ امیدوار ہونے کی وجہ سے یہ ووٹر ایک جگہ ووٹ دے سکتے ہیں اور اگر اس بار ووٹروں نے ایک ساتھ ووٹ کیا تو بی جے پی کے لئے کوئی امکان نہیں ہے۔ یہاں سے اتحاد کے امیدوار کنور دانش علی اور بی جے پی کے موجودہ رکن پارلیمنٹ کنور سنگھ تنور ہیں۔ سال 2014 میں بی جے پی کے امیدوار کو 528880 ووٹ ملے تھے جبکہ ایس پی کے امیدوار کو370666 ووٹ ملے تھے اور بی ایس پی کے امیدوار کو162983 ووٹ ملے تھے جبکہ آر ایل ڈی کو نو ہزار ووٹ ملے تھے۔ اس مرتبہ مودی لہر کے ساتھ مرکزی حکومت سے ناراضگی بھی ہے اور حزب اختلاف کا متحدہ امیدوار بھی ہے اس لئے اگر حزب اختلاف کے سال 2014 کے ووٹوں کو ہی جمع کر لیا جائے تو بھی اتحاد کا امیدوار جیتتا نظر آ رہا ہے کیونکہ اتحاد کے ووٹوں کو ملا کر542649 ہو رہے ہیں۔

بلندشہر لوک سبھا سیٹ بھی ریزروڈ سیٹ ہے اور یہ بہت حساس سیٹ ہے کیونکہ یہاں موب لنچنگ کے ایک واقعہ میں انسپکٹر سبودھ سنگھ کا قتل ہو گیا تھا۔ اس سیٹ کو بی جے پی اپنے لئے محفوظ سیٹ تصور کرتی ہے لیکن یہاں بھی آبادی کا جو تناسب ہے وہ بی جے پی کے لئے پریشانی کا سبب ہے۔ اس لوک سبھا سیٹ پر مسلمانوں کی آبادی 19 فیصد ہے، دلتوں کی آبادی 22 فیصد ہے اور جاٹوں کی آبادی 10 فیصد ہے اور اگر اتحاد کے امیدوار کو ان تین طبقوں کا ووٹ مل جائے تو بی جے پی اپنی یہ مضبوط سیٹ بھی ہار سکتی ہے۔ اس سیٹ پر اعلی ذات اکژیتی طبقہ کی آبادی 30 فیصد سے زیادہ ہے۔ اس سیٹ سے سال 2014 میں بی جے پی کو 6 لاکھ سے زیادہ ووٹ ملے تھے جبکہ حزب اختلاف کی تمام پارٹیوں کو ملا کر ساڑھے تین لاکھ ووٹ ہی ملے تھے۔ زمین پر جو ناراضگی ہے اور ایک متحدہ امیدوار ہونے کی وجہ سے بی جے پی کے اس قلع کو بھی خطرہ ہے۔

اتر پردیش کے سابق وزیر اعلی کلیان سنگھ کا گڑھ رہی علی گڑھ کی لوک سبھا سیٹ پر مقابلہ دلچسپ ہے۔ اس سیٹ پر بی جے پی میں اندرونی لڑائی بہت زیادہ ہے۔ یہاں کے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ گوتم اور کلیان سنگھ کے بیٹے راجبیر کے درمیان اختلافات کافی بڑھ گئے ہیں۔ اس سیٹ پر اعلی ذات اکثریتی طبقہ کی آبادی 40 فیصد ہے اس لئے اس سیٹ کو بی جے پی کی سیٹ تصور کیا جاتا ہے لیکن یہاں پر20 فیصد مسلمان، 17 فیصد دلت اور 10 فیصد جاٹ ووٹر ہیں۔ اتحاد کا ایک امیدوار ہونے کی وجہ سے اور نوٹ بندی و جی ایس ٹی سے ناراض اعلی ذات کے کاروباری بہت پریشان ہیں جس کی وجہ سے بی جے پی کو اس سیٹ پر بھی مشکل نظر آرہی ہے۔ ویسے یہ سیٹ بی جے پی کے لئے آسان سیٹ تصور کی جاتی ہے۔

ہاتھرس لوک سبھا سیٹ سے بی جے پی پہلی مرتبہ1991 میں کامیاب ہوئی تھی اور اس کے بعد سے وہ کبھی نہیں ہاری ہے۔ یہاں پر 13 فیصد مسلمان، 14 فیصد دلت اور 17 فیصد جاٹ ہیں جسے اتحاد کا ووٹر تصور کیا جا رہا ہے اس لئے بی جے پی کو یہاں سے اس مرتبہ پریشانی ہو سکتی ہے۔ سال 2014 کے انتخابات میں یہاں سے بی جے پی کو ساڑھے پانچ لاکھ ووٹ ملے تھے جبکہ حزب اختلاف کو 4 لاکھ نوے ہزار ووٹ کے آس پاس ملے تھے۔ اس وقت مودی کی لہر تھی لیکن اس مرتبہ لہر نہ ہونے کی وجہ سے اور حزب اختلاف کا متحدہ امیدوار ہونے کی وجہ سے مقابلہ بہت قریبی اور دلچسپ ہو گیا ہے۔

متھرا کی ہائی پروفائل سیٹ جہاں سے فلمی دنیا کی ڈریم گرل ہیما مالنی بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ ہیں وہاں اس بار ڈریم گرل کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا مقابلہ آر ایل ڈی کے کنور نریندر سنگھ سے ہے، اس علاقہ میں اجیت سنگھ کا خاندان کافی مقبول ہے۔ یہاں جاٹوں کی 22 فیصد آبادی ہے، دلتوں کی 17 فیصد اور اور مسلمانوں کی دس فیصد آبادی ہے۔ ایس پی، بی ایس پی اور آر ایل ڈی کے اتحاد کی وجہ سے ہیما مالنی کے لئے یہ سیٹ بہت مشکل ہو گئی ہے۔

آگرہ سیٹ ریزروڈ ہے اور دو مرتبہ سے اس سیٹ پر بی جے پی کا قبضہ ہے لیکن یہاں پر بی جے پی کو اندرونی اختلافات کا سامنا ہے۔ اس سیٹ پر 30 فیصد دلت ہیں جن میں 16 فیصد سے زیادہ جاٹو ہیں اور 16 فیصد سے زیادہ مسلمان ہیں۔ یہاں پر بھی بدلے ماحول میں بی جے پی کے لئے پریشانی ہے۔

فتح پور سیکری کی سیٹ پر مقابلہ دلچسپ ہے کیونکہ یہاں سے اتر پردیش کانگریس کے صدر اور فلم اداکار راج ببر کانگریس کے امیدوار ہیں۔ یہاں پر اعلی ذات اکثریتی طبقہ کی آبادی 40 فیصد سے زیادہ ہے۔ راج ببر کی مقبولیت کی وجہ سے یہاں مقابلہ سخت ہو گیا ہے، زمینی رپورٹس کے مطابق بی جے پی کی یہاں مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔

دوسرے مرحلہ پر اگر باریکی سے نگاہ ڈالی جائے تو سال 2014 میں 80 میں سے 71 سیٹیں جیتنے والی بی جے پی کے لئے مشکلیں بہت زیادہ ہیں اور ان کو عوام کے کئی مشکل سوالوں کا سامنا ہے۔ ان سوالوں میں بے روزگاری، کسانوں کے مسائل اور نوٹ بندی کی وجہ سے تباہ ہوئی معیشت بڑے سوال ہیں۔ بی جے پی کے لئے پریشانی اس لئے ہے کیونکہ اسے اتر پردیش میں پہلی مرتبہ ایک اتحاد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اتحاد نہ ہونے کی صورت میں بی جے پی کو ہمیشہ ووٹوں کے تقسیم کا فائدہ ہوتا آیا ہے۔