پی ایم مودی مشکل حالات کو سمجھیں اور ’معاشی پیکیج‘ پر از سر نو غور کریں: راہل گاندھی 

راہل گاندھی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ریجنل صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ”لاک ڈاؤن سوئچ کی طرح نہیں ہے جس کو آن اور آف کر دیا جائے۔ اسے بہت احتیاط کے ساتھ ہٹایا جانا چاہیے۔“

کانگریس لیڈر راہل گاندھی
کانگریس لیڈر راہل گاندھی
user

قومی آوازبیورو

کانگریس کے سابق قومی صدر راہل گاندھی نے آج ریجنل میڈیا کے نامہ نگاروں کے ساتھ ایک انتہائی اہم پریس کانفرنس کی جس میں ملک کے موجودہ حالات اور مرکزی حکومت کے ذریعہ اعلان کردہ معاشی پیکیج کے بارے میں کھل کر اپنا رد عمل ظاہر کیا۔ 20 لاکھ کروڑ روپے کے معاشی پیکیج کا حوالہ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کے دوران پی ایم مودی سے گزارش کی کہ وہ کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں پیدا حالات کو سمجھیں اور معاشی پیکیج کے تعلق سے از سر نو غور کریں، کیونکہ لوگوں کو قرض کی نہیں بلکہ فوری طور پر پیسے کی ضرورت ہے۔


راہل گاندھی نے تقریباً سوا گھنٹہ تک چلی پریس کانفرنس کے دوران نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کورونا بحران کے درمیان جاری لاک ڈاؤن نے کسانوں، مزدوروں، غریبوں کے سامنے کئی طرح کے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔ اس وقت وہ پیسے کی قلت محسوس کر رہے ہیں، انھیں پیسے کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت پی ایم مودی کو پوری کرنی چاہیے۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ "پی ایم مودی کو چاہیے کہ وہ ہندوستان کے دل کو دیکھ کر پیسہ دیں، نہ کہ غیر ملکی ریٹنگ پر توجہ دیں۔ ہندوستان میں اس وقت بحرانی کیفیت ہے، چھوٹے تاجر پریشان ہیں، ملک کا کسان پریشان ہے، مزدور بھی مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں حکومت کی ترجیحات یہ ہونی چاہیے کہ وہ ان ضرورت مندوں پر توجہ دے، نہ کہ عالمی ریٹنگ پر۔"

اس موقع پر راہل گاندھی نے صحافیوں کا اس بات کے لیے شکریہ ادا کیا کہ وہ زمینی حقیقت کو لوگوں کے سامنے لا رہے ہیں، سچائی کو اپنی رپورٹ کا حصہ بنا رہے ہیں اور کورونا سے پریشان حال مہاجر مزدوروں سے لے کر غریب طبقہ کے مسائل کو سامنے رکھ رہے ہیں۔ میڈیا سے بات چیت کے دوران راہل گاندھی نے لاک ڈاؤن کے دوران مختلف حادثات میں ہلاک ہونے والے لوگوں کو خراج عقیدت بھی پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ "لاک ڈاؤن سوئچ کی طرح نہیں ہے جس کو آن اور آف کر دیا جائے۔ اسے بہت احتیاط کے ساتھ ہٹایا جانا چاہیے۔ ہمیں بزرگوں کا خیال رکھنا چاہیے، بیماروں کا خیال رکھنا چاہیے اور خواتین و بچوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔"

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 16 May 2020, 3:11 PM