پی ایم مودی 2 روزہ دورے پر پہنچے ملیشیا، کانگریس نے یاد دلایا ملیشیائی وزیر اعظم انور ابراہیم کا ایک بیان
ملیشیا روانگی سے قبل پی ایم مودی نے کہا کہ ہندوستان اور ملیشیا کے درمیان تاریخی تعلقات رہے ہیں اور گزشتہ کچھ سالوں کے دوران ان رشتوں میں لگاتار مضبوطی آئی ہے۔

ہندوستان اور ملیشیا کے رشتوں کو نئی اونچائیاں فراہم کرنے کا عزم لیے وزیر اعظم نریندر مودی ہفتہ کے روز 2 دنوں کے دورہ پر ملیشیا پہنچ گئے۔ ایئرپورٹ پر ان کا استقبال ملیشیائی وزیر اعظم انور ابراہیم نے کیا۔ ملیشیا کے لیے روانگی سے قبل پی ایم مودی نے اشارہ دیا تھا کہ ہندوستان اب ملیشیا کے ساتھ دفاعی، معاشی، سیکورٹی اور اینوویشن جیسے اہم شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے یہ بیان بھی دیا کہ ہندوستان اور ملیشیا کے درمیان تعلقات تاریخی رہے ہیں اور گزشتہ کچھ سالوں کے دوران ان رشتوں میں لگاتار مضبوطی آئی ہے۔
پی ایم مودی کا کہنا ہے کہ وہ ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم کے ساتھ تفصیلی بات چیت کو لے کر پُرجوش ہیں۔ نریندر مودی کے مطابق دونوں ممالک اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے پر توجہ دیں گے۔ اس میں دفاعی و سیکورٹی تعاون کے ساتھ ساتھ تجارتی، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور اینوویشن کو نئی سمت دینا شامل ہے۔
خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق پی ایم مودی کے دورۂ ملیشیا کو لے کر ملیشیا میں موجود ہند نژاد طبقہ بہت پُرجوش ہے۔ کوالالمپور میں ان کے استقبال کے لیے عالیشان کمیونٹی پروگرام منعقد کیا جا رہا ہے، جس کا نام ہے ’ویلکم مودی جی‘۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں 750 سے زیادہ فنکار ایک ساتھ اسٹیج پر اتریں گے اور کمیونٹی رقص پیش کریں گے۔
بہرحال، کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ملیشیا پہنچنے سے قبل انھیں کچھ باتیں یاد دلائی ہیں۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’اکتوبر 2025 کے اواخر میں وزیر اعظم کوالالمپور کا دورہ کرنے والے تھے۔ اس کا اعلان بھی کیا گیا تھا، لیکن آخری لمحہ میں مودی نے یہ دورہ منسوخ کر دیا، کیونکہ وہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سامنے آنا نہیں چاہتے تھے، جو اسی وقت ملیشیا میں موجود رہنے والے تھے۔ چنانچہ مودی نے آسیان رہنماؤں کے ساتھ ایک ورچوئل سمٹ میٹنگ پر اکتفا کیا۔‘‘ کانگریس لیڈر نے ملیشیائی وزیر اعظم انور ابراہیم کے ایک بیان کی یاد دہانی بھی کرائی۔ انھوں نے لکھا کہ ’’وزیر اعظم کوالالمپور جا رہے ہیں تاکہ اپنے مزید ایک اچھے دوست، ملیشیا کے وزیر اعظم سے ملاقات کر سکیں۔ یہ یاد کرنا مناسب ہوگا کہ 27 دسمبر 2024 کو ڈاکٹر منموہن سنگھ کے لیے اپنے خراج عقیدت میں انور ابراہیم نے کیا کہا تھا۔‘‘
اس پوسٹ کے ساتھ جئے رام رمیش نے انور ابراہیم کا وہ پرانا پوسٹ بھی شیئر کیا ہے، جو سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے انتقال پر ایک تعزیتی پیغام تھا۔ اس میں انور ابراہیم نے لکھا تھا کہ ’’میرے معزز اور عزیز دوست ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال کی خبر نے غم کا ایک بھاری بوجھ مجھ پر ڈال دیا ہے۔ یقیناً اس عظیم شخصیت پر بے شمار تعزیتی مضامین، تحریریں اور کتابیں لکھی جائیں گی، جن میں انہیں ہندوستان کی معاشی اصلاحات کے معمار کے طور پر سراہا جائے گا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ ’’وزیر اعظم کی حیثیت سے ڈاکٹر منموہن سنگھ ہندوستان کے دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں میں ابھرنے کے عمل کے معاون ثابت ہوئے۔‘‘ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’مجھے یہ نایاب اعزاز حاصل رہا کہ میں نے ان انقلابی پالیسیوں کے ابتدائی برسوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، جب ہم دونوں 1990 کی دہائی میں بطور وزیر خزانہ خدمات انجام دے رہے تھے۔ ہم بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کے لیے پُرجوش عزم میں شریک تھے، حتیٰ کہ ایک بڑے معاملے کی تہہ تک پہنچنے میں باہمی تعاون بھی کیا۔‘‘ اس بیان کی یاد دہانی جئے رام رمیش نے اس لیے کرائی ہے، کیونکہ مودی حکومت ڈاکٹر منموہن سنگھ اور یو پی اے حکومت کی پالیسیوں کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔