’وزیر اعظم مودی جین-زی سے ووٹنگ کا حق چھیننے پر آمادہ‘، جئے رام رمیش کا تلخ تبصرہ

جئے رام رمیش نے کہا کہ ’’ایک وزیر اعظم (راجیو گاندھی) نے جین-زی کو ووٹ دینے کا حق دیا، جبکہ دوسرا (نریندر مودی) اسے چھیننے کے لیے غلط طریقے استعمال کرنے پر آمادہ ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>جئے رام رمیش / آئی اے این ایس</p></div>
i

کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے اس فیصلے کا ذکر کیا، جس کے تحت 1988 میں ووٹ ڈالنے کی کم از کم عمر 21 سال سے گھٹا کر 18 سال کر دی گئی تھی۔ کانگریس جنرل سکریٹری اور شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے الزام عائد کیا کہ ایک وزیر اعظم نے نوجوانوں کو ووٹ دینے کا حق دیا، جبکہ دوسرا (پی ایم مودی) جین-زی سے یہ حق ’چھیننے‘ کی کوشش کر رہا ہے۔

جے رام رمیش نے اس تعلق سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کی ہے، جس میں لکھا ہے کہ ’’یہ 2 وزرائے اعظم کی کہانی ہے۔ دسمبر 1988 میں راجیو گاندھی حکومت نے پارلیمنٹ کے معمول کے سرمائی اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 326 میں ترمیم کرتے ہوئے ووٹ ڈالنے کی کم از کم عمر 21 سال سے گھٹا کر 18 سال کر دی تھی۔ انہوں نے اسے نوجوانوں کو بااختیار بنانے والا قدم قرار دیا تھا۔‘‘ اس پوسٹ میں کانگریس رکن پارلیمنٹ نے پی ایم مودی کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ 2024 سے ووٹر لسٹ کی خصوصی مختصر نظرثانی (ایس ایس آر) روک دی گئی ہے، جس کی وجہ سے جین-زی کے نئے ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہو پا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک وزیر اعظم نے جین-زی کو ووٹ دینے کا حق دیا، جبکہ دوسرا اسے چھیننے کے لیے غلط طریقے استعمال کرنے پر آمادہ ہے۔‘‘


قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے جمعرات کو مرکزی حکومت پر سنگین الزام عائد کیا تھا۔ اپوزیشن پارٹی نے کہا تھا کہ جین-زی کو ووٹر لسٹ سے باہر رکھنے کے لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پارٹی نے اس معاملہ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ کانگریس نے یہ بھی کہا تھا کہ پی ایم مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو اس ’سازش‘ کے لیے جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔

جے رام رمیش نے قبل میں الزام عائد کیا تھا کہ وزیر اعظم اس بات کو یقینی بنانے پر زور دے رہے ہیں کہ جین-زی ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ میں درج نہ ہوں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نوجوانوں میں حکومت کے تئیں عدم اطمینان کو دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کے سربراہ کے ذریعہ انہیں ووٹر لسٹ سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ ہر سال ووٹر لسٹ میں ترمیم کے لیے ہونے والی ایس ایس آر روک دی گئی ہے۔ ایس ایس آر کے ذریعہ خاص طور پر 18 سال کی عمر مکمل کرنے والے نئے ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2 دیگر الیکشن کمشنرز نے ایس ایس آر دوبارہ شروع کرنے کا زوردار مطالبہ کیا تھا، لیکن گزشتہ 2 برسوں سے ووٹر لسٹ میں یہ نظرثانی نہیں ہوئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔