’مغربی کنارے‘ میں جاری اسرائیلی کارروائی کے خلاف وزیر اعظم مودی میں بولنے کی ہمت نہیں ہے: جے رام رمیش

جے رام رمیش کے مطابق مغربی ایشیا میں جاری موجودہ جنگ اسرائیل کو اپنے ’گریٹر اسرائیل‘ کے وژن کو آگے بڑھانے اور فسلطینی ریاست کے کسی بھی امکان کو ختم کرنے کے لیے ’کور‘ فراہم کر رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>جے رام رمیش /&nbsp;&nbsp;INCIndia@</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے مقبوضہ ’مغربی کنارے‘ میں جاری اسرائیلی کارروائی پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’آج ایران پر امریکہ-اسرائیل کی فضائی بمباری اور ایران کی جوابی کارروائی کا 28واں دن ہے۔ گزشتہ 4 ہفتوں میں جب دنیا کی نظر آبنائے ہرمز اور خلیجی ممالک کے توانائی کے انفراسٹرکچر پر مرکوز رہیں، تب اسرائیل نے غزہ کے لوگوں پر اپنی ظالمانہ کارروائی جاری رکھی۔‘‘

اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے مزید لکھا کہ ’’جنوبی لبنان میں اپنے لیے ایک بڑا بفر زون بنانے کی کارروائی شروع کی اور مغربی کنارے پر اپنے قبضے کو مستقل کنٹرول میں بدلنے کے لیے فیصلہ کن قدم اٹھائے۔‘‘ جے رام رمیش کے مطابق مغربی ایشیا میں جاری موجودہ جنگ اسرائیل کو اپنے ’گریٹر اسرائیل‘ کے وژن کو آگے بڑھانے اور فسلطینی ریاست کے کسی بھی امکان کو ختم کرنے کے لیے ’کور‘ فراہم کر رہی ہے۔


کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں وزیر اعظم مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے لکھا کہ ’’ایران پر امریکہ-اسرائیل کی بمباری وزیر اعظم مودی کے اسرائیل سے لوٹنے کے ٹھیک 2 روز بعد شروع ہوئی۔ لیکن جس بات پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے وہاں پہنچنے سے چند روز قبل ہی اسرائیلی کابینہ نے 1967 کے بعد پہلی بار مقبوضہ مغربی کنارے کے تقریباً نصف حصے میں زمینوں کی رجسٹریشن کی منظوری دی تھی۔ اس سے لاکھوں فسلطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل ہونا پڑے گا۔ لیکن وزیر اعظم مودی میں اپنے دوست بنجامن نیتن یاہو سے سچ بولنے اور اس کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت نہیں ہے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔