پاکستانی جاسوس ہونے کی پاداش میں پکڑا جانے والا کبوتر رہا

کبوتر کا ایک ویٹرنری ڈاکٹر سے طبی ملاحظہ بھی کرایا کیونکہ وہ بہت ہی سہما ہوا تھا اور اس کو یہاں قیام کے دوران اچھی طرح کھلایا پلایا بھی گیا۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں بین الاقوامی سرحد پر تین روز قبل مبینہ طور پر 'پاکستانی جاسوس' ہونے کے بنا پر پکڑے گئے کبوتر کو پولیس نے آزاد کردیا ہے۔

بتادیں کہ کٹھوعہ میں بین الاقوامی سرحد پر مقامی لوگوں کی طرف سے پکڑے گئے اس کبوتر کے پر پینٹ کئے ہوئے تھے اور اس کے ایک پیر میں ایک رنگ باندھی ہوئی تھی جس پر کچھ اعداد لکھے ہوئے تھے۔ ایس ایس پی کٹھوعہ ڈاکٹر شیلندر کمار مشرا نے میڈیا کو بتایا کہ مقامی لوگوں کی طرف سے پکڑے گئے کبوتر میں ہمیں کوئی مشکوک چیز نظر نہیں آئی جس کی بنا پر ہم نے اس کو آزاد کردیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کبوتر کا ایک ویٹرنری ڈاکٹر سے طبی ملاحظہ بھی کرایا کیونکہ وہ بہت ہی سہما ہوا تھا اور اس کو یہاں قیام کے دوران اچھی طرح کھلایا پلایا بھی گیا۔

قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے حبیب اللہ نامی ایک شخص نے اس کبوتر کا مالک ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے اس کو رہا کرنے کی اپیل کی تھی۔

انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کبوتر کی رہائی کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ کبوتر کے پیر کے ساتھ باندھی رنگ پر جو اعداد لکھے ہوئے ہیں وہ کوئی کوڈ پیغام نہیں ہے بلکہ میرا موبائل نمبر ہے۔