کیا کروز پر فرضی چھاپہ ماری ہوئی، آرین خان کو گرفتار کرنے والا شخص بی جے پی لیڈر ہے!

این سی پی کے ایک سینئر لیڈر نے حیرت انگیز دعویٰ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ 2 اکتوبر کو ایک لکژری جہاز کارڈیلیا کروز پر نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے چھاپے میں بی جے پی نائب صدر سمیت 2 نجی شخص شامل تھے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے ایک سینئر لیڈر نے بدھ کے روز ایک حیران کرنے والا دعویٰ کیا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے سرخیاں بننے والے ڈرس کیس کے تعلق سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ 2 اکتوبر کو ایک لگژری جہاز کارڈیلیا کروز پر نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی چھاپہ ماری میں بی جے پی کے نائب صدر سمیت دو نجی شخص شامل تھے۔ این سی پی کے قومی ترجمان اور مہاراشٹر کے اقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے ’دھوکہ دہی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے این سی بی کے نظام کی تنقید کی، جس میں بی جے پی لیڈر منیش بھانوشالی اور ’نجی جاسوس‘ کرن پی گوساوی کو ملزمین کو کھینچتے ہوئے دیکھا گیا تھا، جس میں سپر اسٹار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان اور ارباز مرچنٹ شامل ہیں۔

این ڈی ٹی وی کے رپورٹر سوہت مشرا نے بھی ٹوئٹ کر کہا ہے کہ لال شرٹ میں جنھیں آپ دیکھ رہے ہیں، وہی منیش بھانوشالی ہیں... یہ بی جے پی نائب صدر ہیں اور ارباز کو این سی بی دفتر لے کر یہی پہنچے ہیں۔ سوہت نے کچھ تصویریں بھی شیئر کی ہیں جن میں وہ وزیر اعظم اور دوسرے لیڈروں کے ساتھ دیکھے جا سکتے ہیں۔ سوہت نے لکھا ہے ’’اوپر مودی جی کے ساتھ ان کی تصویر آپ دیکھ سکتے ہیں۔‘‘


جہاں ایک داڑھی اور چشمے والے بھانوشالی کو میرون شرٹ پہنے ہوئے، مرچنٹ کو کھینچتے ہوئے دیکھا گیا، وہیں گوساوی کو آرین خان کو ہفتہ کی دیر رات بین الاقوامی کروز ٹرمینل سے باہر کھینچتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس واقعہ نے ملک اور بالی ووڈ انڈسٹری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

بہر حال، نواب ملک کا کہنا ہے کہ بھانوشالی نے وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی صدر جے پی نڈا، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، مہاراشٹر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر دیویندر سنگھ فڑنویس، موجودہ اور سابق مرکزی اور ریاستی وزراء اور دیگر سینئر بی جے پی لیڈروں کے ساتھ تصویریں پوسٹ کی تھیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’’بی جے پی اور این سی بی کو واضح کرنا چاہیے کہ یہ دو شخص کون ہیں اور انھیں مبینہ جہاز چھاپہ ماری میں کیوں دیکھا گیا تھا۔ یہ دونوں شخص فرضی ہیں اور این سی بی کی چھاپہ ماری صرف تشہیر کے لیے ایک دھوکہ دہی تھی۔ ان دونوں کے ساتھ بی جے پی کا کنکشن کیا ہے۔‘‘


نواب ملک نے دہرایا کہ سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد سے گزشتہ ایک سال سے این سی بی صرف ہائی پروفائل فلمی ہستیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ چھاپہ ماری کی جا رہی ہے، نام و نمود پر نظر رکھی جا رہی ہے، مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو بدنام کیا جا رہا ہے اور بالی ووڈ کے لوگوں کے دل میں خوف پیدا کیا جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔