پُرانی دہلی: لال کنواں میں فرقہ وارانہ فساد کے ماحول سے عوام خوفزدہ

علاقے میں زبردست کشیدگی ہے اور ذرا سی غلطی بڑے فساد کی شکل لے سکتی ہے۔ تمام مقامی مارکیٹ بند ہیں اور اگر ایسا ہی ماحول رہا تو کل بھی یہ مارکیٹ بند رہ سکتی ہے جو کاروباریوں کے لئے بہت ہی نقصاندہ ہے۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

قومی آوازبیورو

پرانی دہلی کے لال کنواں علاقہ میں 200 میٹر کے درمیان دو گروپ پورے جوش میں مذہبی نعرے بازی کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور ان دونوں کو ایک دوسرے سے دور رکھنے کے لئے بڑی تعداد میں پولس تعینات ہے۔ گلی درگا مندر کے باہر ایک سفید شامیانہ کے نیچے بیٹھی خواتین اور بیس پچیس نوجوان پر جوش انداز میں ’جے شری رام‘، ’مودی زندہ باد‘، ’ہندو ایکتا زندہ باد‘ اور ’مندر پر پتھراؤ کرنے والوں کو گرفتار کرو ‘کے نعرے لگاتے نہیں تھک رہے۔

دوسری جانب 200 میٹر کے فاصلہ پر پولس بیریکیڈ کی دوسری طرف دوسرے طبقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان نعرہ تکبیر اور ’پٹائی کرنے والے کو گرفتار کرو‘ کے نعرے لگاتے نہیں تھک رہے۔ بیچ بیچ میں اگر اس بھیڑ کو نظر آتا ہے کہ کوئی ان کی ویڈیو بنا رہا ہے تو وہ اس پر غصہ ہوتے ہیں۔انہیں میں سے ایک گروہ ایک جانب بھاگتا ہے تو دوسرا دوسری جانب، اور پھر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں کہ کہاں بھاگ رہے ہو یہیں رہو کچھ نہیں ہوا۔ پولس یہ سارا ڈرامہ ایک تماش بین کی طرح دیکھتی ہے، کوئی کارروائی نہیں کرتی۔ پولس کو معلوم ہے کہ اگر وہ ذرا سی بھی ایکٹیو ہوئی تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔

ایک فرقہ وارانہ فساد کے شروع ہونے کے لئے ماحول پوری طرح پکا ہوا ہے اور کسی بھی جانب سے معمولی سی غلطی بڑے فساد کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ شدید گرمی کے باوجود لوگ سڑکوں پر بڑی تعداد میں گروپ میں باتیں کرتے نظر آرہے ہیں۔ بیچ بیچ میں لوگ گھر جاکر اپنے اہل خانہ کو حالات کے بارے میں بتاتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ کچھ دنوں کے لئے کھانے پینے کی ضروری اشیا کا انتظام کر لیا جائے۔ سامان گھر میں رکھ کر وہ پھر سڑک پر زمینی حالات دیکھنے کے لئے آ جاتے ہیں۔ ایک عجیب سی بے چینی ان لوگوں میں نظر آ تی ہے۔

دہلی کے وزیر اور عام آدمی پارٹی کے علاقہ کے رکن اسمبلی عمران حسین پہلے مندر کے حق میں دھرنے پر بیٹھے لوگوں کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اور پھر دوسرے طبقہ کے لوگوں کو گھر جانے کے لئے اپیل کر تے ہیں تاکہ حالات قابو سے باہر نہ جائیں۔ اسی علاقہ کے پانچ مرتبہ سے رکن اسمبلی رہے اور شیلا دکشت کے سینئر وزیر ہارون یوسف اس کے لئے دہلی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہتے ہیں ’’ ہم نے اپنے دور میں کبھی سماج مخالف عناصر کی حوصلہ افزائی نہیں کی جس کی وجہ سے علاقہ کا ماحول کبھی خراب نہیں ہوا، لیکن موجودہ رکن اسمبلی نے سماج دشمن عناصر کی حوصلہ افزائی کی جس کی وجہ سے یہ سب ہو رہا ہے۔‘‘

علاقہ میں زبردست تناؤ ہے اور ایک ذرا سی غلطی بڑے فساد کی شکل لے سکتی ہے۔ ادھر صبح خبر پھیلتے ہی علاقہ کی تمام مارکیٹ بند ہو گئیں اور اگر ایسا ہی ماحول رہا تو کل بھی یہ مارکیٹ بند رہ سکتی ہے جو کاروباریوں کے لئے بہت ہی نقصاندہ ہے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر افواہوں کابازار گرم ہے اور دونوں جانب سے سوشل میڈیا پر نفرت بھرے پیغامات گشت کر رہے ہیں۔

Published: 1 Jul 2019, 8:10 PM