آر ایس ایس کی شاکھا سے نکلے لوگ اسمبلی میں گندی فلمیں دیکھتے ہیں: سابق وزیر اعلیٰ

2012 میں کرناٹک اسمبلی اجلاس کے دوران 3 وزراء مبینہ طور پر ’فحش ویڈیوز‘ دیکھتے کیمرے میں قید ہوئے تھے، اسی واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کماراسوامی نے کرناٹک بی جے پی سربراہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

تصویر بشکریہ ٹوئٹر / @ANI
تصویر بشکریہ ٹوئٹر / @ANI
user

تنویر

جنتا دل (سیکولر) کے سینئر لیڈر اور کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کماراسوامی نے آر ایس ایس کو لے کر ایک ایسا بیان دیا ہے جس پر ہنگامہ برپا ہو سکتا ہے۔ انھوں نے آر ایس ایس پر طنز کستے ہوئے کہا ہے کہ سَنگھ کی شاکھا میں تربیت لینے والے لوگ اسمبلی اجلاس میں ’بلو فلمیں‘ دیکھتے ہیں۔ دراصل ریاستی بی جے پی صدر نلن کمار کتیل نے کماراسوامی کو آر ایس ایس کی شاکھا میں آ کر سَنگھ کی سرگرمیاں سیکھنے کی دعوت دی تھی، اسی پر کماراسوامی نے اپنا رد عمل طنزیہ انداز میں ظاہر کیا۔

کرناٹک بی جے پی صدر نلن کتیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کماراسوامی نے کہا کہ ’’مجھے ان کا (آر ایس ایس کا) ساتھ نہیں چاہیے۔ کیا ہم نے نہیں دیکھا کہ سَنگھ کی شاکھا میں کیا سکھایا جاتا ہے؟ وہاں سے نکلے لوگ اسمبلی میں کس طرح سے سلوک کرتے ہیں؟ اسمبلی کے اندر سیشن کے دوران بلو فلمیں دیکھنا، کیا انھیں (بی جے پی) شاکھا میں نہیں سکھایا جاتا؟ کماراسوامی نے سوالیہ انداز میں کہا کہ ’’یہ سب سیکھنے کے لیے مجھے وہاں (آر ایس ایس شاکھا) جانے کی ضرورت ہے؟‘‘


صحافیوں سے بات چیت کے دوران کماراسوامی نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’ان کی شاکھا مجھے نہیں چاہیے۔ میں نے غریبوں کی شاکھا سے کافی کچھ سیکھا ہے۔ اب میرے پاس ان سے سیکھنے کو کچھ نہیں ہے۔‘‘ یہاں قابل ذکر ہے کہ 2012 میں کرناٹک اسمبلی اجلاس کے دوران تین وزراء مبینہ طور سے ’فحش ویڈیوز‘ دیکھتے ہوئے کیمرے میں قید ہو گئے تھے۔ اسی واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کماراسوامی نے کرناٹک بی جے پی سربراہ نلن کمار پر جوابی حملہ کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔