’لوگ زار و قطار رو رہے، لیکن حکومت سب کچھ تباہ کرنے پر آمادہ‘، دال منڈی میں بلڈوزر چلنے کے خلاف کانگریس نے اٹھائی آواز

کانگریس کا کہنا ہے کہ وارانسی کی دال منڈی میں ایک دکاندار نے پریشان ہو کر اپنی دکان کو آگ کے حوالہ کر دیا۔ بی جے پی حکومت یہاں بلڈوزر چلا کر لوگوں کی دکانیں توڑ رہی ہے، ان کی روزی روٹی چھین رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>دال منڈی میں مکانات کو منہدم کیے جانے کے دوران پریشان حال بھیڑ، ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

وارانسی میں موجود تاریخی دال منڈی علاقہ میں انتظامیہ کی طرف سے توڑ پھوڑ کی کارروائی شروع ہو گئی ہے، جس نے مقامی لوگوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ’کاشی وشوناتھ دھام‘ کے لیے متبادل راستہ تلاش کرنے کی کوشش میں مسلم اکثریتی اس علاقہ کو چوڑا کیا جا رہا ہے، جس کے تحت آج صبح بڑے پیمانہ پر توڑ پھوڑ کی کارروائی شروع ہوئی۔ پولیس فورس کی موجودگی میں انتظامیہ کی طرف سے ہوئی اس کارروائی نے مقامی لوگوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے اور ان کی حمایت میں سماجی و سیاسی کارکنان نے آواز بھی بلند کی ہے۔ کانگریس نے بھی اس معاملہ میں اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کارروائی کو عوام مخالف اور حکومت کی تاناشاہی قرار دیا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے لوگ زار و قطار رو رہے ہیں، لیکن حکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا۔ حکومت تو سب کچھ تباہ کرنے پر آمادہ نظر آ رہی ہے۔

کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں پی ایم مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا گیا ہے کہ دال منڈی کو توڑ کر وہ اپنے دوست (اڈانی) کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں۔ دال منڈی میں بلڈوزر کارروائی کی ویڈیو اور کچھ نیوز کلپس کو شامل کر تیار کردہ اس ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ ’’نریندر مودی نے عام آدمی کو پوری طرح سے پریشان کر رکھا ہے۔ یہ ویڈیو دیکھیے... یہ وارانسی کی دال منڈی کی ویڈیو ہے، جہاں ایک دکاندار نے پریشان ہو کر اپنی دکان کو آگ کے حوالہ کر دیا۔‘‘ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’بی جے پی حکومت یہاں بلڈوزر چلا کر لوگوں کی دکانیں توڑ رہی ہے۔ ان کی روزی روٹی چھین رہی ہے۔ لوگ رو رہے ہیں، بلک رہے ہیں، لیکن مودی حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ صرف اپنے دوست کو فائدہ پہنچانے کے لیے سب تباہ کرنے پر آمادہ ہیں۔‘‘


کانگریس نے آج صبح بھی ایک ویڈیو اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی تھی، جس میں دال منڈی کا ایک دکاندار حکومت کی کارروائی سے پریشان ہو کر اپنی ہی دکان کو آگ کے حوالہ کرتے ہوئے دکھائی دے رہا ہے۔ اس دردناک ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’یہ وارانسی کی دال منڈی کی ویڈیو ہے، جہاں ایک دکاندار نے پریشان ہو کر اپنی دکان کو نذر آتش کر دیا۔‘‘ ساتھ ہی کانگریس نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’بی جے پی حکومت یہاں بلڈوزر چلا کر لوگوں کی دکانیں توڑ رہی ہے، ان کی روزی روٹی چھین رہی ہے۔ لوگ رو رہے ہیں، بلک رہے ہیں، لیکن حکومت سب تباہ کرنے پر آمادہ ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ ’کاشی وشواناتھ دھام‘ کے لیے متبادل راستہ کے طور پر مسلم اکثریتی دال منڈی کو چوڑا کرنے کے مقصد سے اب تک کی سب سے بڑی انہدامی کارروائی آج صبح شروع ہوئی۔ پیر کو وارانسی پولیس انتظامیہ نے 21 عمارتوں کو منہدم کرنا شروع کیا جسے میونسپل کارپوریشن کی جانب سے خستہ حال قرار دیا گیا ہے۔ کارروائی شروع ہونے سے قبل ہی جائے وقوع پر موجود پولیس انتظامیہ کی ٹیم کو عمارت کے مالکان کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہدامی کارروائی کے درمیان پولیس نے مخالفت کرنے والے مکان مالکان کو حراست میں بھی لیا۔ اسی درمیان ایک عمارت کے مالک نے انہدامی کارروائی کی مخالفت میں اپنی ہی عمارت کو جلانے کی کوشش کی۔ آگ لگانے کے دوران مکان مالک وہیں کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ میں کاغذ دکھاتے ہوئے اشارہ کر رہے تھے۔ موقع پر موجود انتظامیہ کی ٹیم نے وقت رہتے آگ پر قابو پا لیا۔


مکان مالکان کا کہنا ہے کہ ان کے مکانات غیر قانونی طور پر توڑے جا رہے ہیں۔ خستہ حال مکان کو منہدم کرنے کے لیے میونسپل کارپوریشن 15 دنوں کا وقت دیتا ہے، جبکہ ان کو 3 دنوں کا ہی وقت دیا گیا تھا۔ انھیں جواب جمع کرانے کی بات کہی گئی تھی، نہ کہ انہدامی کارروائی کی۔ جواب ان لوگوں کی جانب سے بھیج بھی دیا گیا ہے، اس کے باوجود ان کے مکانات کو توڑا جا رہا ہے۔ مقامی باشندے اس پورے عمل کو عدالت میں چیلنج کرنے کا ارادہ کر چکے ہیں، لیکن پولیس و انتظامیہ نے تو اپنی کارروائی شروع کر دی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔