چین کے سخت موقف کی وجہ سے زیر التوا مسائل حل نہیں ہو سکے

ہندوستان نے مثبت اور تعمیری تجاویز پیش کیں، لیکن چینی فریق نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور نہ ہی اس سمت میں آگے بڑھنے کی کوئی تجویز پیش کی، نتیجتاً مذاکرات کے دوران زیر التوا مسائل حل نہیں ہو سکے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: مشرقی لداخ میں کشیدگی کو حل کرنے کے لیے اتوار کو دونوں ممالک کے فوجی کمانڈروں کے درمیان مذاکرات کا تیرہواں دور جو چین کی ضد کی وجہ سے گزشتہ ڈیڑھ سال سے جاری ہے، زیر التوا مسائل کو حل نہیں ہوسکے۔ پیر کی صبح جاری بیان میں فوج نے کہا کہ مذاکرات کے دوران ہندوستان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ یہ تعطل مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول کے ساتھ یکطرفہ طور پر صورتحال کو تبدیل کرنے کی چین کی کوششوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ اب یہ ضروری ہے کہ چین باقی علاقوں میں زیر التوا مسائل کو حل کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے تاکہ لائن آف ایکچول کنٹرول کے ساتھ امن اور دوستانہ ماحول قائم ہو سکے۔

ہندوستان نے زور دے کر کہا کہ زیر التوا مسائل کے حل سے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کی راہ ہموار ہوگی۔ ہندوستانی فریق نے مسائل کو حل کرنے کے لیے مثبت اور تعمیری تجاویز پیش کیں، لیکن چینی فریق نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور نہ ہی اس سمت میں آگے بڑھنے کی کوئی تجویز پیش کی، نتیجتاً مذاکرات کے دوران زیر التوا مسائل حل نہیں ہو سکے۔ اتوار کی صبح 10.30 بجے شروع ہونے والے مذاکرات کا تیرہواں دور چینی سرحد پر واقع ’مولڈو گیریژن‘ میں شام 7 بجے تک جاری رہا۔


دو ماہ سے زائد کے وقفے کے بعد ہونے والے مذاکرات کے تیرہویں دور میں ہندوستانی وفد کی قیادت فائر اینڈ فیوری کور کے جی او سی لیفٹیننٹ جنرل پی جی کے مینن نے کی، جبکہ چینی فریق نے جنرل وانگ ہوژیانگ کی قیادت میں مذاکرات میں حصہ لیا۔ مذاکرات کی تفصیلات بتاتے ہوئے فوج نے کہا کہ میٹنگ بنیادی طور پر مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول کے ساتھ تنازعات کے زیر التوا مسائل کو حل کرنے پر مرکوز رہا۔

ہندوستان نے اصرار کیا کہ چین نے دو طرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لائن آف ایکچول کنٹرول پر حالات کو بدلنے کی کوشش کی۔ اس لیے اب چین کو اس صورتحال کو حل کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔ ہندوستانی فریق نے کہا کہ ایسا کرنا دوشنبہ میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان حالیہ مذاکرات کے مطابق ہوگا۔ خیال رہے، اس بات چیت میں دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں فریق زیر التوا مسائل کو جلد از جلد حل کریں گے۔


اتوار کو ہونے والی بات چیت کے دوران چین کے ہٹ دھرم موقف کی وجہ سے زیر التوا مسائل کے حل پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا، تاہم دونوں فریق نے زمینی امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے بات چیت کا عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ مذاکرات کے پچھلے دوروں کی بنیاد پر دونوں فریقوں نے اپنے فوجیوں کو ’پیگانگ تسو‘ اور ‘گوگرا‘ کے علاقوں سے واپس بلا لیا ہے لیکن ’ڈیپسانگ‘ اور ’ڈیم چوک‘ کے علاقوں پر ان کے درمیان کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔

فوج نے کہا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ چین دو طرفہ تعلقات کے وسیع تر تناظر کو مدنظر رکھتے ہوئے باہمی معاہدوں اور پروٹوکول کو مدنظر رکھتے ہوئے بقیہ متنازع مسائل کو حل کرنے کی طرف کام کرے گا۔ دوسری جانب، رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ چین نے ہندوستان پر الزام لگایا ہے کہ اس نے اپنے غیر منطقی اور ناقابل عمل مطالبات کی وجہ سے مذاکرات کے دوران مسائل پیدا کیے۔ اس سے قبل بارہویں دور کی میٹنگ میں مشرقی لداخ میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ بقیہ متنازع ایشوز کو موجودہ معاہدوں اور پروٹوکول کے تحت جلد از جلد حل کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔