پیگاسس جاسوسی معاملہ: آئینی حق تلفی کے خلاف جدوجہد کرے گی کانگریس، اجے کمار للو

مرکزی حکومت پر جاسوسی اور پرائیویسی کے آئینی حق کو پامال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے یوپی کانگریس کے صدر اجے کمار للو نے کہا کہ آئینی حقوق کے استحصال کے خلاف ان کی پارٹی کی جدوجہد جاری رہے گی

اجے کمار للو / ٹوئٹر
اجے کمار للو / ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: پیگاسس سافٹ وئیر کے ذریعہ مرکزی حکومت پر جاسوسی اور پرائیویسی کے آئینی حق کو پامال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے یوپی کانگریس کے صدر اجے کمار للو نے کہا کہ آئینی حقوق کے استحصال کے خلاف ان کی پارٹی کی جدوجہد جاری رہے گی۔ گزشتہ روز کانگریس پارٹی نے للو کی قیادت میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاج کیا اس دران انہیں گرفتار بھی کیا گیا۔

کانگریس کے ریاستی صدر اجے کمار للو نے بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ بی جے پی صرف جاسوس پارٹی بن کر رہ گئی ہے اور تاناشاہی سے جمہوریت کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ ریاست و ملک کی عوام حیران ہیں کہ کیا کام سونپا تھا ووٹ دے کر بی جے پی کو اقتدار میں پہنچانے کے بعد تاناشاہی رویہ سے لوگوں کے حقوق ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ جاسوسی کراکر پرائیویسی پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔


انہوں نے کہا کہ جو بھی عوام کی آواز اٹھاتا ہے سچ دکھاتا ہے ان کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ صحافیوں کو پیٹا جا رہا ہے مقدمے لکھے جارہے ہیں لیکن کانگریسی اس ظالم حکومت سے ڈرنے والی نہیں ہے۔ پرینکا گاندھی کی قیادت میں اس تاناشاہ بی جے پی حکومت کی تاناشاہی کے خلاف عوام کے درمیان جائیں گے اور سال 2022 میں ریاستی حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کا کام کریں گے۔

قبل ازیں، کانگریس کے ملک گیر احتجاج کے دوران لکھنؤ میں کانگریس کارکنوں نے ریاستی صدر اجے کمار للو کی قیادت میں مظاہرہ کیا۔ للو اور اسمبلی میں کانگریس لیڈر آرادھنا مشرا مونا سمیت ریاست کے دیگر لیڈروں کو احتجاج سے روکنے کے لئے گھر میں نظر بند کردیا گیا تھا، جس کی اطلاع پر مشتعل کارکنوں کی بھی ریاستی کانگریس صدر کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہونا شروع کر دیا۔


بعد میں کارکنوں کے ساتھ احتجاج کے لئے ہیلتھ بلڈنگ قیصر باغ سے راج بھون تک مارچ کے لئے جاتے وقت پولیس سے جھڑپ ہوئی اور للو کو گرفتار کر کے ایکو گارڈن لے جایا گیا۔ آرادھنا مشرا مونا، ایم ایل سی دیپک سنگھ و سابق راکن پارلیمان راکیش سچان، سابق وزیر نسیم الدین صدیقی، سابق ایم ایل اے شیام کشور شکلا اور ستیش اجمانی سمیت دیگر لیڈروں کو بھی گرفتار کیا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔