حکومت کی لاپرواہی سے اسپتالوں کے گیٹوں پر مریض دم توڑ رہے ہیں: اجے کمار للو

اجے کمار للو نے کہا کہ کورونا سے نپٹنے اور بدحال طبی نظام کو درست کرنے کے بجائے اعدادوشمار کی کلابازی کی جا رہی ہے۔ بڑی تعداد میں ہو رہی اموات کو چھپاکر وبا کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اجے کمار للو، تصویر یو این آئی
اجے کمار للو، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

لکھنو: اترپردیش کانگریس کے صدر اجے کمار للو نے کورونا کے معاملات میں تیزی سے اضافہ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسپتالوں میں طبی سہولیات کی بہت کمی ہے۔ ویکسین، بیڈ، وینٹی لیٹر اور آئی سی یو کی کافی کمی ریاست کے لوگوں کی تشویش میں اضافہ کرنے والی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 84 دیگر ممالک کو مفت ویکسین برآمد کرنے کا فیصلہ افسوسناک ثابت ہو رہا ہے۔ ابھی بھی بیرون ملک ویکسین بھیجے جانے پر روک نہ لگنا ضد کی علامت ہے۔ جس طرح راجدھانی میں ویکسین کے لئے لوگوں کو طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے، اسپتالوں میں گیٹوں پر مریض دم توڑ رہے ہیں اور اتنا ہی نہیں شمشان گھٹ پر آخری رسومات ادا کرنے کے لئے رشتہ داروں کو چالیس چالیس گھنٹوں کا انتظار کرنا پڑ رہا ہے اس سے کورونا کی خطرناک صورتحال، حکومت کی لاپرواہی اوربے حسی کا پتہ چلتا ہے۔ دکھ، درد اور علاج کی ناکام جدوجہد کے بعد ہونے والی موت کے ماتم کے درمیان جشن منانے کا بی جے پی حکومتوں کا فیصلہ غیرحساسیت کی علامت ہے۔

اجے کمار للو نے الزام لگایا کہ کورونا سے نپٹنے اور بدحال طبی نظام کو درست کرنے کے بجائے اعدادوشمار کی کلابازی کی جا رہی ہے۔ بڑی تعداد میں ہو رہی اموات کو چھپاکر وبا کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو ریاست کے عوام کے لئے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران لکھنو محکمہ صحت کے مطابق 23 اموات کورونا سے ہوئی ہیں، جبکہ لکھنو کے صرف دو شمشان گھاٹ میں 65 لاشوں کی آخری رسومات ادا کی گئی ہیں۔ اس حساب سے ریاست میں اموات کے اصل اعدادو شمار سمجھے جاسکتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔