پڑھے لکھے نوجوانوں کے والدین انھیں رکشہ کھینچتے یا پکوڑے تلتے دیکھنے پر مجبور: راہل

راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ’’پڑھے لکھے نوجوانوں کے والدین انھیں رکشہ کھینچنے یا مزدوری کرنے یا سڑک کنارے پکوڑے تلنے پر مجبور ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ مستقبل چھین کر مودی حکومت نے انھیں آتم نربھر کر دیا۔‘‘

راہل گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
راہل گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

ہندوستان میں بڑھتی بے روزگاری اور اس بے روزگاری کے سبب نوجوانوں میں خودکشی کو لے کر بڑھتے رجحان پر کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اس تعلق سے آج ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’پڑھے لکھے نوجوانوں کے والدین انھیں رکشہ کھینچنے یا مزدوری کرنے یا سڑک کنارے پکوڑے تلنے پر مجبور ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ مستقبل چھین کر مودی حکومت نے انھیں آتم نربھر کر دیا۔‘‘

دراصل ’نیوز کلک‘ (ہندی) پر ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کا عنوان ہے ’ستّا کے آٹھویں سال میں سرکار، نوکری-روزگار کی دُرگتی برقرار‘ (اقتدار کے آٹھویں سال میں سرکار، نوکری-روزگاری کی تباہی برقرار)۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے اعداد و شمار کے مطابق بے روزگار کے سبب خودکشی کرنے والوں کی تعداد کسانوں کے ذریعہ کی جانے والی خودکشی کی تعداد سے زیادہ ہے۔ اسی رپورٹ کا ایک اسکرین شاٹ راہل گاندھی نے ٹوئٹ میں شیئر کرتے ہوئے مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور بڑھتی بے روزگاری کو لے کر حملہ آور رخ اختیار کیا ہے۔


جہاں تک ’نیوز کلک‘ میں شائع خبر کی بات ہے، اس میں لکھا گیا ہے کہ ’’گزشتہ سات سالوں کی حکومت کا آڈٹ دیکھیں تو ملک کے عام باشندوں کے تجربات کھٹّے ہی رہے ہیں۔ یوں تو کئی معنوں میں یہ سات سال تکلیف دہ رہے، لیکن مودی راج میں بڑھی بے روزگاری اور گھٹی ملازمتیں یہ دو ایسی باتیں ہیں جن پر خود مودی حامی بھی دبی زبان میں اپنی حمایت درج کراتے ہیں۔‘‘ رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’سنٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکونومی (سی ایم آئی ای) کے ذریعہ جاری اعداد و شمار کے مطابق فروری 2019 میں ملک میں بے روزگاری کی شرح 7.2 فیصد رہی۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔