بنگال بجٹ اجلاس: حکومت اور گورنر کی رسہ کشی عروج پر، دھنکھر نے خطبہ پڑھنے سے کیا انکار

روایت رہی ہے کہ مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے بجٹ اجلاس کی شروعات سے قبل گورنر تحریری خطبہ پیش کرتے ہیں،اس تقریر کو ریاستی حکومت تیاری کرتی رہی ہے۔

جگدیپ دھنکھر، تصویر آئی اے این ایس
جگدیپ دھنکھر، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

کولکاتا: گورنر اور مغربی بنگال حکومت کے درمیان جاری رسہ کشی اس وقت اپنے عروج پر ہے۔ اس کا مظاہرہ آج اس وقت بخوبی دیکھنے میں آیا جب بجٹ اجلاس میں مغربی بنگال حکومت کا تحریر کردہ خطبہ پیش کرنے سے گورنر جگدیپ دھنکھر نے انکار کردیا۔روایات کے مطابق مغربی بنگال حکومت نے بجٹ اجلاس سے قبل راج بھون کو تحریری خطبہ بھیج دیا ہے۔

دراصل روایت رہی ہے کہ مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے بجٹ اجلاس کی شروعات سے قبل گورنر تحریری خطبہ پیش کرتے ہیں۔اس تقریر کو ریاستی حکومت تیاری کرتی رہی ہے۔ گورنر کی تقریر کو کابینہ منظور کرتی ہے۔اسی روایات کے مطابق ممتا بنرجی کے تیسرے دور اقتدار میں پہلے بجٹ اجلاس کےلئے مغربی بنگال حکومت کے ذریعہ تیار تقریر کابینہ نے منظور کرلیا ہے۔اس کے بعد اس تقریر کو راج بھون بھیج دیا گیا ہے۔ترنمول کانگریس حکومت کے ذرائع کے مطابق اس خطبے میں ممتا بنرجی حکومت کے کام کاج کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔


واضح رہے کہ ایک دن قبل ہی ممتا بنرجی نے گورنر کو بدعنوان قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حوالہ کیس میں ملوث رہے ہیں۔اس کے بعد گورنر نے پریس کانفرنس کرکے صفائی دی کہ ان پر لگائے جارہے الزامات سیاسی مفادات کے تحت ہے۔ اب گورنر نے بنگال حکومت کا تحریر کردہ خطبہ پڑھنے سے انکار کر کے ایک اور نئے تنازعہ کو کھڑا کردیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔