یو پی: وائرل بخار کی تباہی، فیروز آباد میں 12 ہزار سے زائد افراد متاثر، 114 ہلاک

وائرل بخار سے گزشتہ 24 گھنٹے میں فیروز آباد ضلع میں مزید چار اموات ہوئیں، جس سے مہلوکین کی تعداد بڑھ کر 114 ہو گئی ہے، ان میں 88 بچے بھی شامل ہیں۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے فیروز آباد ضلع میں 12 ہزار سے زیادہ لوگ وائرل بخار سے متاثر ہیں۔ یہ جانکاری ریاست کے محکمہ صحت کے افسران نے دی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ضلع میں چار مزید اموات ہوئی ہیں، جس سے مہلوکین کی تعداد بڑھ کر 114 ہو گئی ہے، ان میں 88 بچے بھی شامل ہیں۔ رکے ہوئے پانی کو باہر نکالنے اور بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے وسیع فاگنگ اور گھر گھر سروے کے باوجود اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کو علاج کی عدم دستیابی میں اپنے پانچ سال کے بیٹے سے محروم ہو جانے والے دہاڑی مزدور ویر پال نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ شہر کے ایک نجی اسپتال نے علاج شروع کرنے کے لیے 30 ہزار روپے ایڈوانس میں مانگے تھے۔

مزدور کا کہنا ہے کہ ’’میں نے ان سے علاج شروع کرنے اور مجھے پیسے کا انتظام کے لیے کچھ وقت دینے کی گزارش کی، لیکن انھوں نے منع کر دیا۔ میں بعد میں اپنے بچے کو فیروز آباد میڈیکل کالج لے گیا، جہاں اسٹاف نے میرے بچے کو بیڈ دستیاب نہ ہونے کے سبب داخل کرنے سے انکار کر دیا۔ میں نے اسے آگرہ لے جانے کے لیے ایک نجی ٹیکسی کا انتظام کیا، لیکن میرے بیٹے کی راستے میں ہی موت ہو گئی۔‘‘ فیروز آباد میڈیکل کالج کے چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (سی ایم ایس) ہنسراج سنگھ نے کہا کہ اس معاملے میں کوئی آفیشیل شکایت نہیں کی گئی ہے۔


چیف میڈیکل افسر (سی ایم او) دنیش کمار پریمی نے کہا کہ ضلع میں 64 سرگرم کیمپ ہیں اور بخار والے لوگوں سمیت 4800 لوگوں کا وہاں علاج چل رہا ہے۔ محکمہ صحت کے افسران کے مطابق فیروز آباد میں اب تک ڈینگو کے 578 معاملوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ملیریا، اسکرب ٹائفس- لاروا مائٹس کے ذریعہ پھیلنے والا ایک بیکٹیریا سے پیدا بیماری، لیپٹواسپائروسس، متاثرہ جانوروں کے پیشاب سے پھیلنے والی ایک دیگر بیکٹیریا سے پیدا بیماری کے کچھ معاملے بھی سامنے آئے ہیں۔ ڈائریا بھی بچوں کے لیے خطرہ بن کر ابھرا ہے۔

محکمہ صحت کے ایڈیشنل ڈائریکٹر اے کے سنگھ نے کہا کہ طبی ملازمین کی 100 سے زیادہ ٹیمیں مریضوں کی پہچان کرنے اور انھیں دوائیں اور ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے گھر گھر جا کر سروے کر رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’سرکاری مراکز پر پلیٹلیٹس یا ضروری دواؤں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ مریضوں کو اسپتال لے جانے کے لیے اضافی ایمبولنس کا انتظام کیا گیا ہے۔‘‘ سنگھ نے مزید کہا کہ ’’شہری بلدیہ کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں خصوصی صفائی مہم چلا رہی ہیں اور حال ہی میں ہوئی سبھی اموات کی جانچ کی جا رہی ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔