زرعی قوانین: 22 جولائی کو 200 کسان ’جنتر منتر‘ پر کریں گے مظاہرہ، تیاریاں مکمل

کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے بتایا کہ سنگھو بارڈر سے 5-4 بسیں کل روانہ ہوں گی اور جنتر-منتر پہنچنے کے بعد ہمارا احتجاجی مظاہرہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے ختم ہونے تک چلے گا۔

راکیش ٹکیت، تصویر آئی اے این ایس
راکیش ٹکیت، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

کسانوں کی تحریک ایک بار پھر سے دہلی کی سرحدوں میں داخل ہو رہی ہے۔ کل یعنی 22 جولائی سے 200 کسان جنتر-منتر پر متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ کریں گے۔ اس کے لیے پولیس انتظامیہ اور حکومت سے بھی اجازت مل گئی ہے۔ اس بات کی جانکاری کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے دی۔ اس اجازت کے بعد بھارتیہ کسان یونین لیڈر راکیش ٹکیت نے بتایا ہے کہ ہمارے 200 لوگ کل ہی الگ الگ مظاہروں کے مقام سے جنتر منتر کے لیے روانہ ہوں گے۔

راکیش ٹکیت نے بتایا کہ سنگھو بارڈر سے 5-4 بسیں کل روانہ ہوں گی اور جنتر منتر پہنچنے کے بعد ہمارا احتجاجی مظاہرہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس ختم ہونے تک چلے گا۔ راکیش ٹکیت نے کہا کہ اگر ٹریکٹر لے کر جائیں گے تو کیا ہم ان سے (سیکورٹی فورسز) سے رک پائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم صرف 200 کی تعداد میں جائیں گے، جب ٹریکٹر لے کر جائیں گے تب بھی بتا کر ہی جائیں گے۔ ابھی ہم بذریعہ بس جائیں گے اور اکٹھے جائیں گے۔ راکیش ٹکیت نے مزید کہا کہ پولیس کی گاڑی بھی ساتھ چلے گی، یہی تحفظ کا مطلب ہے۔


واضح رہے کہ کسان لیڈروں نے مانسون اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کو گھیرنے کی تیاری کی ہے۔ حالانکہ پولیس انتظامیہ نے سخت ہدایت دی ہے کہ پارلیمنٹ کے آس پاس کسانوں کی بھیڑ کو اجازت نہیں دی جائے گی، اسی لیے انتظامیہ نے انھیں جنتر منتر پر جانے کو کہا ہے، لیکن کسان پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اسی تعلق سے دونوں فریقین کے درمیان تکرار دیکھنے کو ملی۔ بدھ کو دہلی پولیس اور سنیوکت کسان مورچہ کے درمیان میٹنگ میں کسانوں نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ اجلاس کے دوران ہی پارلیمنٹ کے باہر، یعنی جنتر منتر پر تینوں زرعی قوانین کے خلاف دھرنا دیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔