مہاراشٹر: گڈچرولی میں نکسلی حملہ پر اپوزیشن کا شدید ردعمل، فڑنویس سے استعفی کا مطالبہ

اشوک چوہان نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت ہو یا پھر ریاست کی فڑنویس حکومت، دونوں کو صرف بڑی بڑی باتیں کرنے میں ہی مہارت حاصل ہے۔ اس حکومت کے دور میں نکسل وادی و دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ممبئی: گزشتہ روز یوم مہاراشٹر کے موقع پر ریاست کے گڈچرولی ضلع کے کُرکھیڑا تحصیل میں زمینی سرنگ پھٹنے کے نتیجہ میں 15 کمانڈوز سمیت 16 افراد ہلاک ہوگئے۔ حزب اختلاف نے اس واقعہ پر بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ این سی پی لیڈر شردپوار اور مہاراشٹر صدراشوک چوہان نے بھی استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر کانگریس لیڈر اشوک چوہان نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی حکومت نکسل واد پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے اور مطالبہ کیا کہ شہید جوانوں کے اہلِ خانہ کو فی کس 50 لاکھ روپئے کی مدد دی جائے اور دیویندر فڑنویس وزارتِ داخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اشوک چوہان نے نکسل وادیوں کے خونی حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بی جے پی حکومت پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ یہ اس کی نکسل واد اور دہشت واد کے خلاف ڈھل مل رویئے کا نتیجہ ہے۔ ریاست کی داخلی وزارت سنبھالنے والے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کو اپنے عہدے پر رہنے کا اخلاقی حق نہیں رہ گیا ہے، انہیں فوراً وزیر داخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نکسل وادیوں کے اس قدر خطرناک حملہ ہونے تک ہمارا ہوم ڈیپارٹمنٹ کیا کر رہا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ریاست میں لاء اینڈ آرڈر کی برقراری میں فڑنویس مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں، انہیں فوراً وزیرداخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ اشوک چوہان نے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ اس حملے میں شہید ہونے والے جوانوں کے ورثاء کو فی کس 50 لاکھ روپئے کی مدد دی جائے۔ اشوک چوہان نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت ہو یا پھر ریاست کی فڑنویس حکومت، دونوں کو صرف بڑی بڑی باتیں کرنے میں ہی مہارت حاصل ہے۔ اس حکومت کے دور میں ملک میں نکسل وادی ودہشت گردی حملوں میں اضافہ ہوا ہے، لیکن بی جے پی کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق سلامتی دستوں کی گاڑی دوپہر ساڑھے بارہ بجے بارودی سرنگ سے ٹکرائی اور پھٹ گئی، یہ واردات گڈچرولی کے دادر پور گاؤں میں سڑک کی تعمیر کرنے والے ٹھیکدار کی 36 گاڑیوں کو نذرآتش کرنے کے دس گھنٹے کے بعد پیش آیا ہے۔ انہوں نے دو سائٹ دفتر بھی جلا دیئے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق مہاراشٹر پولس الائٹ سی 60 فورس کے کمانڈوز کومبنگ آپریشن کے لیے روانہ ہوئے تھے، لیکن انہیں شاہراہ پر درخت گرنے کے سبب رکنا پڑا۔ جب یہ اہلکار سڑک کی صفائی کرنے کے لیے نیچے اترے تو دھماکہ ہو گیا۔ سی 60 فورس ماؤوادیوں کے خلاف فوری کارروائی کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔

مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولس (ڈی جی پی) سبودھ کمار جیسوال نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ مذکورہ گاڑی میں 15 اہلکار سوار تھے اور بارودی سرنگ پھٹنے سے ہلاک ہوگئے جبکہ ایک نجی کار بھی آگ کی نذر ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں ہمارے جوان جان گنوا بیٹھے ہیں، اب ہمیں جو کرنا ہے، کریں گے۔

انہوں نے یقین دلایا ہے کہ ماؤنوازوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور انہیں موثر جواب دیا جائے گا۔ ان کا مقصد ملک کی جمہوریت کو اکھاڑ پھینکنا ہے اور مستقبل میں اس طرح کے حملوں کی روک تھام کے لیے اہم اقدامات کیے جائیں گے۔