راج ٹھاکرے کو ای ڈی نے بھیجا نوٹس، کانگریس و این سی پی نے بتایا اِنتقامی کارروائی

اپوزیشن پارٹی کانگریس کا کہنا ہے کہ مودی و شاہ کی آمریت کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہونے کے سبب راج ٹھاکرے کو ای ڈی نے نوٹس دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ممبئی: مہاراشٹر نونرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے کو ای ڈی کی جانب سے نوٹس دیئے جانے کی مہاراشٹر کانگریس اور این سی پی نے سخت مذمت کرتے ہوئے اسے حکمراں پارٹی کی جانب سے اپوزیشن کو ہراساں کرنے کی کوشش اور انتقامی کارروائی قرار دیا۔

ریاستی کانگریس کے صدر ایم ایل اے بالاصاحب تھورات نے اس ضمن میں آج یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ راج ٹھاکرے نے حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف مسلسل آواز بلند کی ہے۔ پارلیمانی انتخابات میں انہوں نے مودی وشاہ کے جھوٹ اور غلط بیانی کا پردہ فاش کیا تھا نیز اپوزیشن پارٹیوں کو متحد کرکے ای وی ایم کے خلاف عوامی تحریک چھیڑی تھی۔ مودی و شاہ کی آمریت کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہونے کے سبب راج ٹھاکرے کو ای ڈی نے نوٹس دیا ہے۔ کانگریس پارٹی مرکزی حکومت کی اس تاناشاہی کی سخت مذمت کرتی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ راج ٹھاکرے کوبھیجیا گیا نوٹس مودی وشاہ کی انتقامی کارروائی ہے۔ مودی وشاہ کی جوڑی جمہوریت کو بالائے طاق رکھ کر ڈکٹیٹر شپ کے ذریعے ملک چلا رہی ہے۔ حکومت کی غلط پالیسیوں کی مخالفت کرنے والے تمام لوگوں کے پیچھے ای ڈی، انکم ٹیکس وسی بی آئی کو لگایا جارہا ہے۔ سینئر کانگریسی لیڈر پی چدمبرم سمیت کانگریس کے دیگر کئی لیڈران کو یہ اسی طرح پریشان کر رہے ہیں۔ ملک بھر میں اپوزیشن پارٹیوں کے جو لیڈران حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں انہیں اسی طرح سے نوٹس بھیج کر پریشان کیا جاتا ہے۔ مودی وشاہ کی جوڑی آئینی اداروں کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے مخالفین کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے جو جمہوریت کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو ای ڈی کا نوٹس دینا، انہیں ملک دشمن قرار دینا کیا یہی مودی وشاہ کا نیو انڈیا ہے؟

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کا اس تعلق سے کہنا ہے کہ حکومت اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کو دبانے کی کوشش کررہی ہے، لیکن تمام اپوزیشن پارٹیاں حکومت کی اس ہٹلرشاہی کے خلاف متحدہ ہوکر مقابلہ کریں گی۔ پارٹی کے قومی ترجمان وممبئی این سی پی کے صدر نواب ملک نے میڈیا کے لئے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک بھر میں مختلف حربوں کا استعمال کرکے اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کو مودی حکومت دبانے کی کوشش کررہی ہے۔ ای ڈی و سی بی آئی ان کا اپنے سیاسی مقصد کے لئے غلط استعمال کیسے کیا جائے، اس حکومت نے یہ دکھا دیا ہے۔

نواب ملک نے کہا کہ گزشتہ لوک سبھا انتخاب میں راج ٹھاکرے نے حکومت کے خلاف موقف اختیار کرتے ہوئے کچھ سوالات کھڑے کئے تھے، اسی لئے ان کے اندر خوف پیدا کرنے کے لئے انہیں ای ڈی کا نوٹس بھیجا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزبِ اقتدار اگر اسی طرح حزبِ مخالف کو ختم کرے گی تو تمام اپوزیشن پارٹیوں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ متحدہ طور پر اس کا مقابلہ کریں اور ہم تمام اپوزیشن کے لوگ اس معاملے میں ایک ساتھ ہیں۔ نواب ملک نے کہا کہ ملک و ریاست کی عوام یہ سب کچھ دیکھ رہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اقتدار کا غلط استعمال کرنے والی بی جے پی حکومت کو ملک کے عوام سبق سکھائے بغیر نہیں رہے گی۔

واضح رہے کہ مہاراشٹر نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے کو دادر میں سینا بھون کے سامنے واقع کوہِ نور مل کی خریداری کے معاملے میں بے ضابطگی کا شک ظاہر کرتے ہوئے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے نوٹس دیا ہے جس میں انہیں 22 اگست کو تفتیش کے لئے حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔ اس نوٹس کے خلاف جہاں ریاست بھر میں سیاست تیز ہوگئی ہے، وہیں مہاراشٹرنونرمان سینا نے 22 اگست کو تھانے شہر کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مہاراشٹرنونرمان سینا کے تھانے و پالگھر کے صدر اویناش جادھونے اس بند کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر لوگوں نے اپنی مرضی سے شہر کو بند رکھا تو ان کا استقبال ہے ورنہ انہیں ہمارے کارکنان کی ناراضگی کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ جادھونے یہ بھی کہا ہے کہ اس بند کے دوران تھانے شہر وریاست میں جو کچھ بھی ہوگا اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

Published: 19 Aug 2019, 8:10 PM