آپریشن سندور: ’پاکستان کا کچھ نہیں بگڑا‘، جئے رام رمیش نے مودی حکومت کو حقائق سے کیا آشنا
کانگریس لیڈر نے کہا کہ 30 مئی 2025 کو سنگاپور میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے تسلیم کیا تھا کہ ہندوستان کو ابتدائی مرحلے میں اسٹریٹجک غلطیوں کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا۔

’آپریشن سندور‘ کے ایک سال مکمل ہونے پر کانگریس نے مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی سفارتی کوششوں کے باوجود پاکستان بین الاقوامی سطح پر اس طرح الگ تھلگ نہیں پڑا، جیسا کہ 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملے کے بعد ہوا تھا۔ کانگریس نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس کے برعکس امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کا پُرجوش استقبال کیا ہے۔ جو حالات اس وقت دیکھنے کو مل رہے ہیں، اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ پاکستان کا کچھ نہیں بگڑا۔
کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ’’آپریشن سندور کو روکنے والی جنگ بندی کا پہلا اعلان 10 مئی 2025 کو شام 5:37 بجے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی مداخلت سے یہ ممکن ہو سکا۔‘‘ جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ ٹرمپ نے بعد میں بھی کئی بار اس دعوے کو دہرایا، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے کبھی اس کی تردید نہیں کی۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ 30 مئی 2025 کو سنگاپور میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے تسلیم کیا تھا کہ ہندوستان کو ابتدائی مرحلے میں اسٹریٹجک غلطیوں کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا۔ تاہم بعد میں حکمت عملی میں بہتری لا کر ہندوستانی فوج نے پاکستان کے اندر تیر بہ ہدف حملے کیے۔ جئے رام رمیش نے یہ بھی کہا کہ 10 جون 2025 کو جکارتہ میں ہندوستانی سفارت خانہ کے ڈیفنس اٹیچی نے اعتراف کیا تھا کہ 7 مئی 2025 کو سیاسی قیادت کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے ہندوستان کو کچھ جنگی طیارے گنوانے پڑے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 4 جولائی 2025 کو فوج کے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ نے بیان دیا تھا کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان کو چین سے گہری مدد ملی۔ اس میں ہتھیاروں اور گولہ بارود کے علاوہ سیٹلائٹ امیجری اور ریئل ٹائم ٹارگیٹنگ سپورٹ بھی شامل تھی۔
کانگریس نے الزام لگایا کہ اس کے باوجود مودی حکومت کا چین کے تئیں نرم رویہ جاری ہے۔ پارٹی نے لداخ میں روایتی گشت کے حقوق کے نقصان، چین سے ریکارڈ درآمدات اور ایف ڈی آئی قوانین میں نرمی جیسے معاملات کا بھی ذکر کیا۔
جے رام رمیش نے کہا کہ 1999 کی کارگل جنگ کے بعد اُس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی حکومت نے کے سبرامنیم کی صدارت میں کارگل جائزہ کمیٹی تشکیل دی تھی، جس نے واقعات کی جانچ کر مستقبل کے لیے تجاویز پیش کی تھیں۔ کانگریس نے اشارہ دیا کہ ’آپریشن سندور‘ کے تعلق سے بھی اسی طرح کے جائزے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ 22 اپریل 2025 کو پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد، جن میں بیشتر سیاح تھے، ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد ہندوستان نے 7 مئی کو آپریشن سندور شروع کیا تھا۔ ہندوستانی فوج نے پاکستان اور پاکستان مقبوضہ کشمیر میں کم و بیش 9 دہشت گرد ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے تھے۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی تھی، لیکن 10 مئی کو فوجی حکام کے درمیان ہاٹ لائن بات چیت کے بعد فوجی کارروائی روکنے پر اتفاق ہو گیا تھا۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
