جاتے مانسون نے یوپی کو پانی پانی کیا، پوروانچل میں معمولات زندگی مفلوج

جدا ہوتے مانسون کا مزاج ریاست کے خاص کے باشندوں کو اب تکلیف دینے لگا ہے، گذشتہ تین دنوں سے ہو رہی بارش سے راجدھانی لکھنؤ کے علاوہ مشرق کے زیادہ تر اضلاع میں معمولات زندگی متاثر ہو کر رہ گئی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

لکھنؤ: اترپردیش میں جدا ہوتے مانسون کا مزاج ریاست کے خاص کر پوروانچل کے باشندوں کو اب تکلیف دینے لگا ہے۔ گذشتہ تین دنوں سے رک رک کر ہورہی بارش سے راجدھانی لکھنؤ کے علاوہ مشرقی اترپردیش کے زیادہ تر اضلاع میں معمولات زندگی پر خاص اثر پڑا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کے اس سلسلے کے اگلے 24 گھنٹوں تک جاری رہنے کے امکانات ہیں۔اس مدت میں کئی علاقوں میں بھاری بارش کے بھی امکانات ہیں۔موسم کے تلخ تیوروں کے مدنظر لکھنؤ،جونپور اور وارانسی سمیت کچھ اضلاع میں 12 ویں جماعت تک کے اسکولوں میں 27 اور 28 ستمبر کوچھٹی کا اعلان کیا گیا تھا۔ کم روشنی اور بارش کی وجہ سے سڑکوں پر گاڑیاں رینگتی نظر آئیں جبکہ پانی بھرنے کی وجہ سے کئی راہ گیر زخمی بھی ہوئے۔

جاتے مانسون نے یوپی کو پانی پانی کیا، پوروانچل میں معمولات زندگی مفلوج

بارش کی وجہ سے دیہی علاقوں میں عام طور سے سناٹا چھایا ہوا ہے۔کیچڑ اور پھسلن بھرے راستوں نے لوگوں کو گھروں میں قید رہنے پرمجبور کردیا ہے۔ کھیتوں میں پانی بھرنے سے سبزیوں کی فصلوں پر کافی اثر پڑا ہے جس سے شہری علاقوں میں سبزیوں کی کمی کی سے قیمتیں آسمانی کی جانب دیکھ رہی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں جونپور میں 21.5سینٹی میٹر بارش درج کی گئی ہے جبکہ مرزا پور میں 12.9، رائے بریلی میں 11.7، پریاگ راج میں 11.4، باندہ میں 9.4، جھانسی میں 6.06، سنت کبیر نگر میں 10.2، گورکھپور میں 13.6، دیوریا میں 5.6، اوریا میں 4.6، لکھنؤ اور سلطان پور میں 5.4، سیتاپور میں 3.0 اور بلیا میں چار سینٹی میٹر بارش درج کی گئی ہے۔

بارش کا سلسلہ جاری رہنے کے باجود ندیوں کے آبی سطح پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے اور ریاست اکثر ندیوں بشمول گنگا، جمنا، راپتی، گھاگھرا اور گومتی سمیت دیگر ندیوں کے آبی سطح میں کمی کی جانب مائل ہے حالانکہ بلیا میں گنگا خطر کے نشان سے تقریبا ایک میٹر اوپر بہ رہی ہے وہیں غازی پور میں ندی کے آبی سطح خطرے کے نشان سے نیچ آرہا ہے۔ رائے بریلی میں سئی ندی میں طغیانی ہے لیکن خطرے کے نشان سے فی الحال دور ہے۔ پلیا کلا میں شاردا ندی خطرے کے نشان سے اوپر بہ رہی ہے۔حالانکہ بارہ بنکی اور بلیا میں گھرگھرا کے تیور میں کچھ نرمی آئی ہے جبکہ اجودھیا میں ندی کے آبی سطح میں اضافہ ہونے سے نشیبی علاقوں میں خوف کا ماحول ہے۔

بارش نے درگا پوجا کی تیاریوں پر بھی کاف اثر ڈالا ہے، کانپور،لکھنؤ،پریاگ راج، مرزا پور، وارانسی سمیت تمام شہروں میں درگا پوجا کے لئے پنڈالوں کی تیاری کی رفتار سست ہوگئی۔ درگا پوجا کا انعقاد کرنے والوں کی نگاہیں آسمانی کی جانب ٹکی ہوئی ہیں کہ کب بارش رکے اور وہ اپنی تیاریوں کو دوبارہ شروع کرسکیں۔

next