پنجاب میں کشمیری طلبا کے ساتھ ہو رہی زیادتیوں سے عمر عبداللہ ناراض

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پنجاب کے وزیر داخلہ سے پنجاب کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم کشمیری طلبا کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔

عمر عبداللہ تصویر یو این آئی
عمر عبداللہ تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پنجاب کے ایک کالج میں اتوار کی شام کشمیری طلبا کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے، انہوں نے پنجاب کے وزیر داخلہ سے پنجاب کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم کشمیری طلبا کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔ بتادیں کہ اتوار کی شام ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ٹی- ٹونٹی میچ کے بعد پنجاب کے ایک کالج میں زیر تعلیم کچھ کشمیری طلبا کو زد کوب کیا گیا۔

عمر عبداللہ نے اس واقعے کے رد عمل میں اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ’یہ سن کر بہت افسوس ہوا کہ گزشہ شب پنجاب کے ایک کالج میں کچھ کشمیری طلبا کے ساتھ زیادتی کے واقعات پیش آئے ہیں۔ میں چرن جیت چنی (وزیر اعلیٰ پنجاب) سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ پنجاب پولیس کو اس معاملے کا نوٹس لینے کی ہدایت دیں اور پنجاب میں پڑھ رہے کشمیری طلبا کے تحفظ کو یقینی بنائیں‘۔


دریں اثنا جموں وکشمیر اسٹو ڈنٹس ایسو سی ایشن کے ترجمان ناصر کھویہامی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ہم نے یہ معاملہ جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی نوٹس میں لائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر کے ایک اعلیٰ پولیس افسر نے اس معاملے پر پنجاب پولیس کے سربراہ کے ساتھ بات کی ہے اور انہوں نے پنجاب میں زیر تعلیم کشمیری طلبا کے تحفظ کو یقینی بنانے کی یقین دہانی کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔