افغان حکومت امن کی راہ میں رکاوٹ، امریکہ بھی وعدہ خلاف: طالبان

طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے قيدی امن معاہدے کے تحت 10 مارچ سے پہلے رہا کیے گئے ہوتے، تو بين الافغان مذاکرات شروع ہو چکے ہوتے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

افغان طالبان نے کابل حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن کی راہ ميں تمام تر رکاوٹيں افغان حکومت کی جانب سے ہيں۔ امريکہ بھی اپنے کیے ہوئے وعدے پورے کرنے ميں ناکام رہا ہے۔ طالبان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان ميں طالبان اور حکومتی فورسز کے درميان تازہ جھڑپوں ميں متعدد فوجيوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔ جب کہ افغان حکومت کو کورونا وائرس سے خراب صورت حال کا سامنا ہے۔

طالبان کے قطر ميں قائم سياسی دفتر کے ترجمان سہيل شاہين نے امن عمل میں رکاوٹوں کا الزام افغان حکومت پر لگايا ہے۔ وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے سہیل شاہین نے بتايا کہ دو ماہ قبل فروری کے آخر ميں امريکہ اور طالبان کے درميان طے پانے والے امن معاہدے کے تحت بين الافغان مذاکرات شروع ہونے تھے۔ اس سے پہلے افغان حکومت اور طالبان کے درميان قيديوں کا تبادلہ ہونا تھا ليکن کابل حکومت قيدی رہا نہیں کر رہی۔

سہيل شاہين نے واضح کيا کہ طالبان آگے بڑھنے کے لیے سنجيدہ ہيں ليکن اس کے لیے دوسرے فريق کو بھی تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے قيدی امن معاہدے کے تحت 10 مارچ سے پہلے رہا کیے گئے ہوتے، تو بين الافغان مذاکرات شروع ہو چکے ہوتے۔

ياد رہے کہ فروری کے آخر میں افغان طالبان اور امریکہ میں ہونے والے امن معاہدے کے تحت افغان حکومت نے طالبان کے پانچ ہزار تک قيدی رہا کرنے تھے جب کہ طالبان نے بھی افغان حکومت کے 1000 قيديوں کو رہا کرنا تھا ليکن اب تک صرف چند سو قيديوں کی رہائی عمل ميں آئی ہے۔

افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جاويد فيصل کے مطابق طالبان قيديوں کی رہائی کا سلسلہ جاری ہے۔ جاوید فیصل کا کہنا تھا کہ 1500 قيدی آئندہ چند ہفتوں ميں رہا کر ديئے جائيں گے۔ ان کے مطابق اب تک 433 طالبان قيدی رہا کیے جا چکے ہيں۔ اس کے مقابلے ميں طالبان نے اب تک افغان حکومت کے 40 قيدی رہا کیے ہيں۔

اطلاعات کے مطابق افغانستان نے طالبان کے بڑھتے ہوئے حملوں کے پيش نظر نہ صرف عالمی طاقتوں بلکہ پاکستان سے بھی مدد کی اپيل کی ہے۔ اس سلسلے ميں رواں ہفتے افغانستان کے قائم مقام وزير خارجہ حنيف اتمر نے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قريشی سے ٹيلی فونک رابطہ کیا تھا۔

افغانستان ميں قيام امن، بين الافغان مذاکرات اور قيديوں کی رہائی کے معاملے پر اسلام آباد اور کابل نے مل کر کام کرنے پر اتفاق کيا ہے۔ طالبان ترجمان سہیل شاہین کے مطابق ايک جانب افغان حکومت ان کے قيدی رہا نہيں کر رہی جب کہ دوسری جانب حملوں ميں کمی پر زور دے رہی ہے۔ يہ دونوں باتيں متضاد ہيں۔

Published: 23 Apr 2020, 9:40 PM
next