جے ای ای پیپر لیک: این ایس یو آئی کا مرکزی وزیر تعلیم کے گھر کے باہر مظاہرہ، سپریم کورٹ جج کی نگرانی میں جانچ کا مطالبہ

این ایس یو آئی سربراہ نیرج کندن نے کہا کہ سی بی آئی کے ذریعہ درج شکایت میں جن کے نام ہیں، ان کے خلاف جلد از جلد کارروائی ہونی چاہیے، جے ای ای جیسے اہم امتحان کا پیپر لیک ہونا افسوسناک ہے۔

تصویر قومی آواز/ ویپن
تصویر قومی آواز/ ویپن
user

قومی آوازبیورو

مشہور جوائنٹ داخلہ امتحان (جے ای ای مین) کے سوالات افشا ہونے کے خلاف آج کانگریس کی طلبا یونٹ این ایس یو آئی نے دہلی میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے گھر کے باہر زوردار مظاہرہ کیا۔ طلبا لیڈران و کارکنان پیپر لیک معاملے کی سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی میں جلد از جلد جانچ کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

جے ای ای پیپر لیک: این ایس یو آئی کا مرکزی وزیر تعلیم کے گھر کے باہر مظاہرہ، سپریم کورٹ جج کی نگرانی میں جانچ کا مطالبہ
تصویر قومی آواز/ ویپن
جے ای ای پیپر لیک: این ایس یو آئی کا مرکزی وزیر تعلیم کے گھر کے باہر مظاہرہ، سپریم کورٹ جج کی نگرانی میں جانچ کا مطالبہ
جے ای ای پیپر لیک: این ایس یو آئی کا مرکزی وزیر تعلیم کے گھر کے باہر مظاہرہ، سپریم کورٹ جج کی نگرانی میں جانچ کا مطالبہ
جے ای ای پیپر لیک: این ایس یو آئی کا مرکزی وزیر تعلیم کے گھر کے باہر مظاہرہ، سپریم کورٹ جج کی نگرانی میں جانچ کا مطالبہ
جے ای ای پیپر لیک: این ایس یو آئی کا مرکزی وزیر تعلیم کے گھر کے باہر مظاہرہ، سپریم کورٹ جج کی نگرانی میں جانچ کا مطالبہ

جے ای ای مین پیپر لیک کے خلاف آج دہلی کی سڑکوں پر اترے این ایس یو آئی کارکنان نے خوب نعرے بازی کی اور وزیر تعلیم کی رہائش کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے بیریکیڈنگ لگا کر طلبا کو روکنے کی کوشش کی، تو ان کا پولیس کے ساتھ تصادم ہو گیا۔ پولیس نے طلبا پر قابو پانے کے لیے طاقت کا بھی استعمال کیا۔


این ایس یو آئی صدر نیرج کندن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سی بی آئی کے ذریعہ درج ہوئی شکایت میں جن کے نام ہیں، ان کے خلاف جلد از جلد کارروائی ہونی چاہیے۔ جے ای ای مین جیسے اہم امتحان میں ایسے واقعات ہونا آج ہر اس طالب علم کے لیے فکر کا موضوع بن گیا ہے جو داخلہ امتحانات کی تیاری کر رہے ہیں۔

این ایس یو آئی سربراہ نے کہا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی جو ملک میں کئی اہم امتحانات کروانے کی ذمہ دار ہے، آج شبہات کے گھیرے میں ہے۔ مرکزی حکومت کی ناک کے نیچے ایسے واقعاات کا ہونا مودی کابینہ کی ایک اور ناکامی کا ثبوت ہے۔ این ایس یو آئی نے دعویٰ کیا کہ اس پیپر لیک کی سیدھی سیدھی ذمہ داری مرکزی حکومت کی ہے، کیونکہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی حال ہی میں نومبر 2017 میں اسی مرکزی حکومت کے ذریعہ قائم کی گئی تھی۔


این ایس یو آئی کے مطابق اگر اس معاملے کو جلد حل نہیں کیا گیا اور ملزمین کو سزا نہیں دی گئی تو یہ طلبا میں عدم اطمینان کا جذبہ پیدا کرے گا۔ اس درمیان پیپر لیک کے اس واقعہ کے بعد نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعہ کرائے گئے بقیہ امتحانات بھی شبہات کے گھیرے میں ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔