اب زومیٹو میں چھنٹنی کی تیاری! 4 فیصد ملازمین کو دکھایا جائے گا باہر کا راستہ، ایک رپورٹ میں انکشاف

ایک ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ زومیٹو میں اب ان لوگوں کو جانے کے لیے کہہ دیا گیا ہے جو پروڈکٹ کو نئی شکل دینے کے لیے کام کر رہے تھے۔

زومیٹو، تصویر آئی اے این ایس
زومیٹو، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

بڑی بڑی کمپنیوں میں اس وقت ملازمین کی چھنٹنی کا دور جاری ہے۔ میٹا، ٹوئٹر اور امیزون جیسی کمپنیوں نے ہزاروں کی تعداد میں ملازمین کی چھنٹنی کی ہے اور آگے بھی چھنٹنی کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اس درمیان فوڈ ایگریگیٹر ایپ ’زومیٹو‘ میں بھی چھنٹنی کے بادل منڈلاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اسی ہفتے زومیٹو نے کمپنی میں لوگوں کو ملازمت سے نکالنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ موجودہ چیلنجنگ ماحول میں کمپنی کو منافع میں لانے اور اس کی لاگت کو کم کرنے کی کوشش کے تحت یہ چھنٹنی کی جا رہی ہے۔

’منی کنٹرول‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زمیٹو میں چھنٹنی کا اثر 100 ملازمین پر دیکھا گیا ہے، اور دھیرے دھیرے اس تعداد میں اضافہ ہوگا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جن لوگوں کی اب تک زومیٹو سے چھٹی ہوئی ہے ان میں کمپنی کے الگ الگ شعبوں سے جڑے ہوئے لوگ ہیں، مثلاً پروڈکٹ، ٹیک، کیٹلاگ، مارکیٹنگ وغیرہ۔ حالانکہ خبروں میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ کمپنی کی سپلائی چین سے جڑے لوگوں پر اس کا اثر نہیں پڑا ہے جو کہ اچھی بات ہے۔ لیکن رپورٹ میں جو سب سے اہم بات سامنے آ رہی ہے، وہ یہ ہے کہ زومیٹو اپنے وَرک فورس میں سے 4 فیصد ملازمین کو نوکری سے نکالنے کا منصوبہ بنا چکی ہے۔


ایک ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ زومیٹو میں اب ان لوگوں کو جانے کے لیے کہہ دیا گیا ہے جو پروڈکٹ کو نئی شکل دینے کے لیے کام کر رہے تھے۔ اب جب پروڈکٹ کا کام پورا کر لیا گیا ہے تو ان کا کردار بے معنی ہو چکا ہے۔ جن لوگوں کو جانے کے لیے کہا گیا ہے، وہ بیشتر مڈل سے سینئر رول والے لوگ ہیں۔

ایک دیگر ذرائع نے اس بات کی جانکاری دی ہے کہ زومیٹو کے بانی اور سی ای او دیپیندر گویل نے کچھ دن پہلے ٹاؤن ہال منعقد کیا تھا جہاں انھوں نے اس بات کا اشارہ دے دیا تھا کہ کمپنی کے جو فنکشن یا سیگمنٹ اچھی کارکردگی نہیں کر رہے ہیں، ان میں ’جاب کٹ‘ کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کلاؤڈ کچن کے لیے کام کرنے والے کچھ منیجرس کو پہلے ہی رپلیس کر دیا گیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔