اب این آر آئی ڈاکٹر جوڑا بنا فراڈ کا شکار، دہلی میں ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ کر کے 14 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی سے سنسنی

متاثرہ کے مطابق 24 دسمبر 2025 کو انہیں خود کو ٹرائی افسر بتانے والے شخص کا فون آیا۔ کال کرنے والے نے الزام لگایا کہ ان کے موبائل نمبر کا استعمال قابل اعتراض کالز اور منی لانڈرنگ میں کیا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سائبر فراڈ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ڈیجیٹل فراڈ کے بڑھتے معاملات کے درمیان دہلی سے ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں جعلسازوں نے ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ کا خوف دکھا کر بزرگ این آر آئی جوڑے سے 14 کروڑ روپے کا فراڈ کیا ہے۔ قومی راجدھانی دہلی میں درج اس معاملے میں 77 سالہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ کس طرح کال کرنے والوں نے قانون کا حوالہ دے کر ان پر بار بار دباؤ ڈالا اور آرٹی جی ایس کے ذریعے رقم ٹرانسفر کروالی۔ دہلی پولیس کی آئی ایف ایس او یونٹ نے ایف آئی آر درج کر کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔

سائبر فراڈ کا شکار ہوئی اندرا تنیجا اور ان کے شوہر اوم تنیجا کے مطابق 24 دسمبر 2025 کو انہیں خود کو ٹرائی افسر بتانے والے شخص کا فون آیا۔ کال کرنے والے نے الزام لگایا کہ ان کے موبائل نمبر کا استعمال قابل اعتراض کالز اور منی لانڈرنگ میں کیا گیا ہے۔


رپورٹس کے مطابق واردات کے بعد کال مبینہ طور پر ممبئی کے کولابا پولیس اسٹیشن سے جوڑی گئی جہاں ایک فرضی آئی پی ایس افسر نے گرفتاری کی دھمکی دی اور اپنے بینک اکاؤنٹس کی تصدیق کے نام پر رقم ٹرانسفر کرنے کے لئے کہا۔ متاثرہ بزرگ جوڑے کو 24 دسمبر سے 10 جنوری تک ڈیجیٹل اریسٹ میں رکھا گیا اور الگ الگ بینک اکاؤنٹس میں آرٹی جی ایس کے ذریعہ 8 بار تقریباً 14.85 کروڑ روپے منتقل کروالیے گئے۔ جعلسازوں نے انہیں یقین دلایا کہ یہ رقم آر بی آئی کے ذریعہ واپس کر دی جائے گی۔

اسی اثنا میں ہفتہ (10 جنوری) کو متاثرہ جوڑے نے جنوبی دہلی ضلع کے سی آر پارک پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی اور 1930 سائبر ہیلپ لائن پر بھی معاملہ درج کرایا گیا ہے۔ بزرگ جوڑے کی شکایت کی بنیاد پر اب دہلی پولیس اس پورے معاملے کی گہرائی سے جانچ میں مصروف ہوگئی ہے۔ بتادیں کہ یہ جوڑا -162015 میں امریکہ سے ریٹائر ہونے کے بعد ہندوستان واپس آیا تھا اور سماجی کاموں میں مصروف ہوگیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔