اب آگ سے نہیں، وہاٹس ایپ پیغام سے چلے گا ’ایکو فرینڈلی راکٹ‘، بنارس کے طالب کا کارنامہ

دیوالی پر پٹاخوں سے ہونے والی آلودگی کو دیکھتے ہوئے بنارس کے ایک طالب علم نے ایکو فرینڈلی راکٹ بنایا ہے، یہ راکٹ تہوار پر آتش بازی کا مزہ تو دے گا، لیکن آلودگی نہیں پھیلائے گا۔

ایکو فرینڈلی راکٹ
ایکو فرینڈلی راکٹ
user

قومی آوازبیورو

دیوالی پر پٹاخوں سے ہونے والی آلودگی کو دیکھتے ہوئے بنارس کے ایک طالب علم نے ایکو فرینڈلی راکٹ بنایا ہے۔ یہ راکٹ تہوار پر آتش بازی کا مزہ تو دے گا، لیکن آلودگی نہیں پھیلائے گا۔ اس کا مزہ لینے کے لیے آگ جلانے کا جھنجھٹ بھی نہیں ہے، بلکہ وہاٹس ایپ اور فیس بک کے ذریعہ سے آسمان پر روشنی کر سکیں گے۔ وارانسی کے اشوکا انسٹی ٹیوٹ کے طالب علم اُتسو ترپاٹھی نے سودیشی آلودگی سے پاک الیکٹرانک چینی-سوڈا سے ایک ایکو فرینڈلی یعنی ماحول دوست راکٹ کا ایجاد کیا ہے۔ یہ راکٹ فیس بک اور وہاٹس ایپ سے جڑے ہوئے ہیں۔ جیسے ہی آپ ان دونوں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے میسج بھیجیں گے تو یہ راکٹ آسمان میں اڑ جائیں گے۔

اُتسو ترپاٹھی نے بتایا کہ دیوالی میں اکثر دیکھتے ہیں کہ چھوٹے بچوں کو پٹاخہ جلانے سے ہاتھ جلنے اور ماحولیاتی آلودگی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ انہی سب کو دیکھتے ہوئے یہ ماحول دوست راکٹ بنایا گیا ہے، جو وہاٹس ایپ اور فیس بک میں کمانڈ دینے سے اوپر آسمان میں آواز کے ساتھ روشنی بھی کرے گا۔ انھوں نے بتایا کہ اس راکٹ کو آرڈینو سرکٹ سے کنیکٹ کیا جاتا ہے۔ پھر موبائل کے ذریعہ سے پیغام بھیجا جائے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں ہیلو کا میسج بھیجتے ہی یہ جل اٹھے گا۔ پیغام بھیجنے میں ایک وائبریشن بننے لگتا ہے۔ وائبریشن توانائی کی ایک شکل ہے۔ یہ ہیٹ انرجی بناتا ہے۔ یہ جب مسالے پر لگتا ہے تو آگ جل جاتی ہے اور راکیٹ آسمان کی طرف آواز کر کے اڑ جاتا ہے۔


ترپاٹھی نے بتایا کہ اسے بنانے کے لیے کاٹھ بورڈ، پوٹاشیم، سوڈا، چینی، چارٹ پیپر، چکنی مٹی کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ راکیٹ آلودگی سے پاک ہے۔ آپ فیس بک کی مدد سے ایک پیغام کمانڈ کے ذریعہ دور رکھے راکٹ کو جلا سکتے ہیں۔ اسے بچوں کی سیفٹی اور بڑھتی آلودگی کو دھیان میں رکھتے ہوئے طلبا نے تیار کیا ہے۔ میک اِن انڈیا سے ترغیب حاصل کر لوکل فور ووکل کے تحت یہ تیار ہوا ہے، اس میں استعمال کی گئی اشیاء ہندوستانی ہیں۔ اس پروجیکٹ کو طلبا نے اشوکا انسٹی ٹیوٹ کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ لیب میں تیار کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اسے بنانے میں 7 دنوں کا وقت لگا ہے اور 600 روپے کا خرچ آیا ہے۔ اسے خاص طور سے بچوں کے لیے بنایا گیا ہے۔

اشوکا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ کے چیئرمین انکت موریہ اور وائس چیئرمین امت موریہ نے بتایا کہ ہمارے ادارے میں بچے نئے نئے تجربات کرتے رہتے ہیں۔ یہ دیوالی کے موقع پر آلودگی سے پاک راکٹ بنایا گیا ہے جو کہ بہت اچھا تحفہ ہے۔ اس سے بچوں کی سیکورٹی کے ساتھ ساتھ ماحولیات کی بھی حفاظت ہو سکے گی۔ یہ بہت اچھا تجربہ ہے۔ بچوں کو ایسے تجربات کرتے رہنے چاہئیں۔ اس سے وہ خودکفیل بن کر ’میک اِن انڈیا‘ کو فروغ دے سکیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔