شہید کسانوں کے اہل خانہ کو معاوضہ نہ دینا مودی حکومت کی بہت بڑی غلطی ہوگی: راہل گاندھی

راہل گاندھی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ تحریک چلانے والے کسانوں کے نام پر معاوضہ نہ دینا، نوکری نہ دینا اور کسانوں کے خلاف پولیس کیس واپس نہ لینا بہت بڑی غلطیاں ہوں گی۔

تصویر ٹوئٹر
تصویر ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے منگل کے روز لوک سبھا میں کسان تحریک کے دوران جان گنوانے والے کسانوں کی ایک فہرست پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جان گنوانے والے کسانوں کے لواحقین کو معاوضہ اور ملازمت فراہم کرے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اگر کسانوں کے نام پر معاوضہ نہ دیا گیا تو یہ اور بھی بڑی غلطی ہوگی اور وزیر اعظم کتنی بار معافی مانگیں گے۔

راہل گاندھی نے لوک سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران بولتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تحریک کے دوران تقریباً 700 کسانوں نے اپنی جان گنوا دی۔ راہل گاندھی نے کہا، ’’وزیر اعظم نے ملک اور ملک کے کسانوں سے معافی مانگی اور انہوں نے کہا کہ انہوں نے غلطی کی ہے۔ 20 نومبر کو وزیر زراعت سے سوال کیا گیا تھا کہ کسان تحریک میں کتنے کسان شہید ہوئے۔ تو وزیر زراعت نے کہا کہ ان کے پاس کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔ ہم نے معلوم کیا کہ حکومت پنجاب نے تقریباً 400 کسانوں کو 5-5 لاکھ روپے معاوضہ دیا ہے اور ان میں سے 150 کسانوں کو روزگار دیا ہے۔‘‘


راہل گاندھی نے کہا کہ ایک اور فہرست ہم نے بنائی ہے جو 70 کسانوں کی ہے، جن کا تعلق ہریانہ کے کسانوں سے ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کسانوں کے نام نہیں ہیں، تو نام ہمارے پاس موجود ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ جو کسانوں کا حق ہے اور جو وزیر اعظم نے معافی مانگی ہے اور کہا ہے وہ پورا ہونا چاہئے اور متاثرہ کسانوں کو معاوضہ اور روزگار ملنا چاہئے۔

دریں اثنا، راہل گاندھی نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’تحریک چلانے والے کسانوں کے نام پر معاوضہ نہ دینا، نوکری نہ دینا اور کسانوں کے خلاف پولیس کیس واپس نہ لینا بہت بڑی غلطیاں ہوں گی۔ آخر وزیر اعظم کتنی بار معافی مانگیں گے۔‘‘ خیال رہے کہ راہل گاندھی نے صبح کے وقت لوک سبھا میں تحریک التوا کا نوٹس پیش کرتے ہوئے کسانوں کے معاملہ پر بحث کرائے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔