نئے زرعی قوانین سے انسان ہی نہیں کتے-بندر بھی بھوکے مریں گے: راکیش ٹکیت

کسان لیڈر راکیش ٹکیت روہتک میں منعقد مہاپنچایت کے دوران کہا کہ ’’کسان اور زراعت کو بچانے کے لیے زراعت سے متعلق 18 محکمات کو ایک جگہ جوڑنا بہت ضروری ہے۔ اسی سے کسان کا بھلا ہوگا۔‘‘

راکیش ٹکیت، تصویر یو این آئی
راکیش ٹکیت، تصویر یو این آئی
user

تنویر

زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی مہاپنچایت کا سلسلہ جاری ہے اور آج ہریانہ کے روہتک میں منعقد مہاپنچایت سے خطاب کرتے ہوئے کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا کہ ’’زرعی قوانین سے کسان اور زراعت کسی کا بھلا نہیں ہوگا۔ آنے والا وقت بھوک کے حساب سے فصل کی قیمت طے کرنے والا ہوگا۔ ‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’حکومت کے تینوں قوانین نافذ ہوئے تو نیا ٹرینڈ بھوک پر تجارت کرنے کا ہوگا۔ انسان ہی نہیں کتے-بندر بھی بھوکے مریں گے۔ اسی لیے یہ لڑائی چل رہی ہے۔ لڑائی کو توڑنے اور کمزور کرنے کے لیے کسانوں کو ہریانہ، پنجاب، یو پی اور ذات پات میں تقسیم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔‘‘

کسان لیڈر راکیش ٹکیت جیند، بہادر گڑھ، کنڈی اور اندری کے بعد منگل کے روز روہتک کے سانپلا میں کسان مہاپنچایت سے خطاب کرنے پہنچے تھے۔ سانپلا واقع سر چھوٹو رام اسمارک میں منعقد کسان مہاپنچایت میں راکیش ٹکیت کے علاوہ ہریانہ بھارتیہ کسان یونین کے ریاستی صدر گرنام سنگھ چڈھونی سمیت کئی لیڈر پہنچے تھے۔ کسان لیڈروں نے اسٹیج پر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر اتحاد کا مظاہرہ کیا۔‘‘


اس موقع پر راکیش ٹکیت نے کہا کہ ’’کسان اور زراعت کو بچانے کے لیے زراعت سے متعلق 18 محکمات کو ایک جگہ جوڑنا بہت ضروری ہے۔ اسی سے کسان کا بھلا ہوگا۔ حکومت کو کسانوں کی کھیتی سے جڑے الگ الگ محکموں کو ایک جگہ جوڑ کر ایگریکلچر کیبنٹ بنانا ہوگا۔ اس کے لیے کسان کوشاں ہیں۔‘‘ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’پہلے یو پی و ہریانہ کے کسان تنہا تھے۔ اب پنجاب کا کسان بھی ساتھ آ گیا ہے۔ اس سے لڑائی تکنیکی طور پر مزید مضبوط ہوئی ہے۔ ہمیں تحریک تو چلانا آتا تھا، لیکن کھانے پینے کا انتظام کرنا نہیں آتا تھا۔ یہ سکھ بھائیوں نے سکھایا ہے۔ اسی لیے نیا اتحاد ابھر کر سامنے آیا ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔