گودھرا واقعہ : اسٹیشن پر مزدوری کرنے والے رفیق حسین کو پولس نے کیا گرفتار

رفیق حسین بھٹک پر الزام ہے کہ اس نے ٹرین کے کوچ پر پہلے پتھراؤ کیا اور پھر بعد میں پٹرول چھڑک کر اس میں آگ لگا دی۔ اس گودھرا واقعہ میں 59 کارسیوکوں کی موت ہو گئی تھی۔

گودھرا میں نذر آتش کیا گیا سابرمتی ایکسپریس کا ڈبہ / فائل تصویر / Getty Images
گودھرا میں نذر آتش کیا گیا سابرمتی ایکسپریس کا ڈبہ / فائل تصویر / Getty Images
user

تنویر

گودھرا ٹرین واقعہ کو 19 سال گزار چکے ہیں اور اب اتنے دنوں بعد پولس نے اس واقعہ کے اہم ملزم رفیق حسین بھٹک کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق رفیق حسین کو گودھرا شہر سے گرفتار کیا ہے۔ رفیق پر الزام ہے کہ اس نے ٹرین کے کوچ پر پہلے پتھراؤ کیا اور پھر بعد میں پٹرول چھڑک کر اس میں آگ لگا دی۔ اس واقعہ میں 59 کارسیوکوں کی موت ہو گئی تھی۔

خبر رساں ادارہ پی ٹی آئی کے حوالے سے خبر سامنے آ رہی ہے کہ گودھرا پولس نے اتوار کی شب ریلوے اسٹیشن کے نزدیک سگنل فلیا کے ایک گھر میں چھاپہ ماری کر کے رفیق حسین کو وہاں سے گرفتار کیا۔ پنچ محل ضلع کی پولس سپرنٹنڈنٹ لینا پاٹل کا کہنا ہے کہ 51 سالہ رفیق ملزمین کے اس گروپ کا حصہ تھا جو پوری سازش میں پیش پیش تھا۔ رفیق گزشتہ 19 سالوں سے فرار تھا۔


لینا پاٹل کا کہنا ہے کہ ’’رفیق اس گروپ کا حصہ تھا جنھوں نے پوری سازش تیار کی، بھیڑ کو اکسایا اور ٹرین کے کوچ کو جلانے کے لیے پٹرول کا انتظام کیا۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’جانچ کے دوران نام سامنے آنے کے فوراً بعد وہ دہلی بھاگ گیا تھا۔ اس کے خلاف قتل اور فساد پھیلانے سمیت کئی سارے الزامات ہیں۔‘‘ پولس کے مطابق دہلی میں رفیق حسین ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک کنسٹرکشن سائٹ پر مزدوری کا کام کرتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ہینڈی کرافٹ اور گھر کے سامان بھی فروخت کرتا تھا۔

واضح رہے کہ 27 فروری 2002 کو گودھرا ٹرین واقعہ پیش آیا تھا جس میں 59 کارسیوک مارے گئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد گجرات میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فساد بھڑک گئے تھے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 16 Feb 2021, 4:27 PM