’مودی راج میں ہندو ہی نہیں، دیوتا بھی خطرے میں ہیں‘

پوری کے جگن ناتھ مندر کا مختلف بینکوں میں 545 کروڑ روپے جمع تھے جو ایک مہینہ قبل ہی دیگر تمام بینکوں سے نکال کر یس بینک میں جمع کیے گئے تھے، وہ پیسہ بھی اب ڈوبنے والے پیسوں میں شمار ہوگیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ممبئی: مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری و ترجمان سچن ساونت نے کہا کہ اکثریتی طبقہ کو خطرے میں بتانے کی سیاست کرنے والی مودی حکومت کے دور میں بینکوں میں رکھی رقومات محفوظ نہیں ہیں، جبکہ بینکوں میں رکھی گئیں زیادہ تر رقومات اکثریتی طبقہ سے وابستہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور اس کے نظریات کی حامل تنظیمیں ملک میں پولرائزیشن کی اپنی گندی سیاست کے لیے ہندوؤں کے خطرے میں ہونے کا ماتم کرتی رہتی ہیں، جبکہ سچائی یہ ہے کہ مودی راج میں واقعتاً ہندو خطرے میں آگئے ہیں۔ ملک کے بینکوں میں جمع رقم ملک کے اکثریتی ہندوؤں کی ہے جو اب بالکل بھی محفوظ نہیں رہ گئی ہے اور اس کی وجہ سے کئی خاندان تباہ ہوگئے ہیں۔ اس کی راست ذمہ داری مودی حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یس بینک پر ریزرو بینک نے پابندی عائد کر دی ہے جس کی وجہ سے اس بینک میں جن لوگوں کے پیسے جمع ہیں، وہ نہیں نکال پا رہے ہیں۔ بینک کے باہر لوگوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ اس سے قبل پنجاب اینڈ مہاراشٹر بینک میں بدعنوانی کی وجہ سے لوگوں کی زندگی بھر کی کمائی ڈوب گئی۔ خود کا پیسہ ڈوب جانے کے صدمے سے کئی لوگوں کی موت واقع ہوگئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے کروڑوں لوگ سڑکوں پر آگئے اور تقریباً 150 لوگوں کو اپنی جانیں گنوانی پڑیں، ان میں بھی اکثریت ہندوؤں کی تھی۔ ملک میں بیروزگاری وفصلوں کی تباہی کے سبب خودکشی کرنے والے نوجوانوں وکسانوں میں بھی اکثریت ہندوؤں کی ہے۔ اب وہی صورت حال ایک بار پھر یس بینک میں پیسہ جمع کرنے والوں پر بھی آگئی ہے۔اس بینک میں پیسہ جمع کرنے والے زیادہ ترہندو ہی ہیں۔

اس میں جمع لوگوں کے پیسوں پر تو مصیبت آئی ہی لیکن اس مصیبت نے ہندوؤں کے بھگوانوں کو بھی نہیں بخشا ہے۔ پوری کے جگن ناتھ مندر کا مختلف بینکوں میں 545 کروڑ روپیے جمع تھا جو ایک مہینہ قبل ہی دیگر تمام بینکوں سے نکال کر یس بینک میں جمع کیا گیا تھا۔ وہ پیسہ بھی اب ڈوبنے والے پیسوں میں شمار ہوگیا ہے۔ اس سے بھگوان جگن ناتھ بھی خطرے میں آگئے ہیں۔

سچن ساونت نے مزید کہا کہ نیرومودی، میہول چوکسی، وجے مالیا جیسے لوگ بینکوں کے کروڑوں روپیے لوٹ کر فرار ہوگئے۔ وہ پیسہ بھی اس ملک کے اکثریتی ہندوؤں کا ہی ہے۔ یس بینک میں 18238 ملازمین ہیں جس میں تقریباً تمام ہندو ہیں اور ان کی ملازمت خطرے میں آگئی ہے۔ ان تمام کی ذمہ دار مودی حکومت ہی پر ہے جس کے ناکارہ پن کا خمیازہ ہندوؤں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

مودی حکومت کی نااہلیوں کی سزا ملک کے اکثریتی ہندوؤں کو بھگتنا پڑ رہی ہے اور کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ اس بھیانک سچائی کے باوجود ہندوؤں کو کسی اور سے نہیں بلکہ خود مودی حکومت سے ہی خطرہ ہے۔ اس کی نااہلی کی وجہ سے ہندوؤں کی محنت کی کمائی تو ڈوب ہی گئی، سیکڑوں لوگ سڑکوں پر بھی آگئے ہیں اور اس کی تمام تر ذمہ داری مودی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

Published: 8 Mar 2020, 12:11 PM
next