کورونا سے ہوئی ہر موت کو طبی لاپروائی نہیں کہا جا سکتا: سپریم کورٹ

ایک عرضی میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے علاج کے لیے ضروری انتظام تو کیا نہیں، ساتھ ہی لاپروائی سے کورونا کو دعوت دے دی، اس لیے ہر موت کو سرکاری اور طبی لاپروائی کی طرح دیکھا جانا چاہیے۔

سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
user

تنویر

سپریم کورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران کورونا سے ہوئی ہر ہلاکت پر کنبہ کو معاوضہ دینے سے متعلق مطالبہ کو ٹھکرا دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے یہ ماننے سے انکار کر دیا ہے کہ کورونا سے ہوئی ہر موت طبی لاپروائی کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ کورونا کے سبب بڑی تعداد میں اموات ہوئی ہیں، یہ افسوسناک ہے، لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہر موت میڈیکل لاپروائی کا معاملہ ہے۔

دراصل عرضی دہندہ دیپک راج سنگھ کی دلیل تھی کہ بیشتر اموات آکسیجن کی کمی یا علاج کی ضروری سہولت نہ ہونے کے سبب ہوئی ہیں۔ ہیلتھ پر پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے کورونا کی دوسری لہر کا اندیشہ ظاہر کیا تھا۔ آکسیجن اور ہاسپیٹل بیڈ کی کمی کی طرف حکومت کی توجہ مبذول کرائی تھی، لیکن حکومت نے مناسب تیاری نہیں کی۔


دیپک راج سنگھ کے وکیل شری رام پرکّٹ کے ذریعہ داخل عرضی میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ الگ الگ حکومتوں اور اداروں نے بھیڑ اکٹھا ہونے کی اجازت دی، انتخابی ریلیوں، کمبھ میلہ جیسے انعقاد کو ہونے دیا۔ حکومت علاج کے لیے ضروری انتظام تو کیا نہیں، ساتھ ہی لاپروائی سے کورونا کو دعوت دے دی۔ اس لیے ہر موت کو سرکاری اور طبی لاپروائی کی طرح دیکھا جانا چاہیے۔

اس عرضی پر آج جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، وکرم ناتھ اور ہیما کوہلی کی بنچ نے سماعت کی۔ انھوں نے ہر موت کو طبی لاپروائی ماننے سے منع کر دیا اور کہا کہ یہ ایک غلط سوچ ہوگی۔ عدالت نے عرضی دہندہ سے کہا کہ اگر مستقبل کو لے کر ان کے پاس کوئی مشورہ ہے تو وہ انھیں حکومت کو سونپ سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔