’نایاب بیماری کے لیے امدادی منصوبہ سے ایک مریض کو بھی فائدہ نہیں پہنچا‘، پھر اپنی ہی حکومت پر برسے ورون گاندھی

ورون گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’گزشتہ سال حکومت نے نایاب بیماری کے لیے ہر مریض کو 50 لاکھ روپے کی مالی امداد کا یقین دلایا تھا، ابھی تک ایک بھی مریض کو اس منصوبہ کا فائدہ نہیں ملا۔‘‘

رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی، تصویر یو این آئی
رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

بی جے پی رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی نے ایک بار پھر مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس مرتبہ انھوں نے وزارت صحت کے ایک امدادی منصوبہ پر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ نایاب بیماریوں سے متاثرہ مریضوں کے لیے 50 لاکھ روپے کی امداد کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، لیکن وزارت صحت کے اس منصوبہ سے اب تک کسی بھی مریض کو فائدہ نہیں ملا ہے۔

ورون گاندھی نے اس سلسلے میں ایک خط مرکزی وزیر صحت منسکھ منڈاویا کو لکھا ہے جس میں امدادی رقم کی فوری ادائیگی کو منظوری دینے کی گزارش کی گئی ہے۔ یہ خط انھوں نے آج اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر بھی کیا ہے۔ خط کے ساتھ ٹوئٹ میں انھوں نے لکھا ہے ’’گزشتہ سال حکومت نے نایاب بیماری کے لیے ہر مریض کو 50 لاکھ روپے کی مالی امداد کا یقین دلایا تھا۔ ابھی تک ایک بھی مریض کو اس منصوبہ کا فائدہ نہیں ملا ہے۔ علاج کے انتظار میں 10 بچوں کی موت ہو چکی ہے۔ میں وزیر صحت منسکھ منڈاویا سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس سمت میں فوراً کام کریں۔‘‘


مرکزی وزیر صحت کو لکھے خط میں ورون گاندھی نے کہا ہے کہ نایاب بیماریوں سے متاثر مریضوں کی زندگی کو بچانے کے لیے 30 مارچ 2021 کو وزارت برائے صحت و خاندانی فلاح کی طرف سے نایاب بیماریوں کے لیے قومی پالیسی 2021 شروع کی گئی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ مئی 2022 میں اس میں کی گئی ایک ترمیم کے مطابق نایاب بیماری کے مریضوں کے علاج کے لیے 50 لاکھ روپے کی مالی امداد کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، لیکن اعلان کے کئی ماہ بعد بھی ایک مریض کا بھی اس منصوبہ سے علاج نہیں ہو سکا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔