’ولاس راؤ دیشمکھ کا نام کوئی نہیں مٹا سکتا‘، مہاراشٹر بی جے پی صدر کو رتیش دیشمکھ نے دکھایا آئینہ

ولاس راؤ دیشمکھ سے متعلق مہاراشٹر بی جے پی صدر رویندر چوہان کے بیان پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے مشہور اداکار اور ولاس راؤ کے بیٹے رتیش دیشمکھ نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو ڈالی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>رتیش دیشمکھ اور رویندر چوہان</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مہاراشٹر میں بڑھی ہوئی سیاسی ہلچل کے درمیان بیان بازیوں کا ایک دراز سلسلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بی ایم سی انتخاب کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں، یہی سبب ہے کہ تلخ بیان بازی اور الزامات عائد کیے جانے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ گزشتہ روز مہاراشٹر بی جے پی صدر رویندر چوہان نے اپنے ایک بیان میں سابق وزیر اعلیٰ ولاس راؤ دیشمکھ کے بارے میں کچھ ایسا کہہ دیا، جس نے تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔

دراصل رویندر چوہان نے ولاس راؤ دیشمکھ کی یادوں کو ان کے آبائی شہر لاتور سے مٹا دینے کی بات کہی تھی، جس پر ولاس راؤ کے بیٹے اور مشہور اداکار رتیشھ دیشمکھ کا سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ رتیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک ویڈیو ڈالی ہے جس میں کہتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں کہ ’’میرے والد آنجہانی ولاس راؤ دیشمکھ لوگوں کے من میں بسے ہیں۔ لوگوں کے لیے اپنی پوری زندگی لگا دینے والے کا نام لوگوں کے من پر لکھا ہوتا ہے، اسے کوئی نہیں مٹا سکتا ہے۔‘‘


مراٹھی زبان میں پوسٹ کی گئی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہی ہے اور مہاراشٹر بی جے پی صدر کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔ ایک دن قبل ہی کانگریس نے بھی مہاراشٹر بی جے پی صدر کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ جو بیان مہاراشٹر بی جے پی صدر نے دیا، وہ دیشمکھ کی وراثت کے تئیں ان کی لاعلمی ظاہر کرنے والی ہے، اور یہ اقتدار کا تکبر بھی ہے۔ کانگریس نے یہ بھی کہا کہ ولاس راؤ دیشمکھ نے لاتور کو قومی شناخت دلائی اور اپنی پوری زندگی ضلع کی ترقی کے لیے وقف کر دی۔

قابل ذکر ہے کہ 5 جنوری کو لاتور میں بی جے پی کارکنان کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رویندر چوہان نے ہاتھ اٹھا کر کہا تھا کہ ’’آپ کا جوش دیکھ کر میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ولاس راؤ دیشمکھ کی یادیں اس شہر سے مٹا دی جائیں گی۔‘‘ مہاراشٹر بی جے پی صدر کے اس بیان پر وہاں موجود کئی لوگوں نے تالیاں بھی بجائی تھیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔