لوک سبھا اسپیکر برلا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک خارج، لیکن اپوزیشن تفریق آمیز رویہ کی قلعی کھولنے میں کامیاب!
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ جب اسپیکر، جو ایوان کے ہر رکن کا نگہبان ہوتا ہے، غیر جانبدار رہنا چھوڑ دے اور حکمراں پارٹی کے سربراہ کی طرح کام کرے تو یہ سنگین تشویش کی بات ہے۔

لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے خلاف لائی گئی عدم اعتماد کی تحریک بدھ کے روز صوتی ووٹوں سے مسترد ضرور کر دی گئی، لیکن اس تحریک پر بحث کے دوران اپوزیشن لیڈران تفریق آمیز رویہ کی قلعی کھولنے میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ محمد جاوید کی جانب سے پیش کردہ تحریک عدم اعتماد پر 12 گھنٹے سے زیادہ وقت تک بحث اور وزیر داخلہ امت شاہ کے جواب کے بعد، پریزائیڈنگ افسر نے اسے ووٹنگ کے لیے ایوان کے سامنے رکھا، جسے اپوزیشن اراکین کے ہنگامہ کے درمیان صوتی ووٹ سے مسترد کر دیا گیا۔
اس تحریک عدم اعتماد پر بحث میں 42 سے زیادہ اراکین پارلیمنٹ نے حصہ لیا اور اس بحث پر ہوئی بحث یا ووٹنگ کے دوران اوم برلا ایوان میں موجود نہیں تھے۔ ان کی طرف سے مقرر کردہ پریزائیڈنگ افسر جگدمبیکا پال نے کارروائی کی نظامت کی، جس پر اپوزیشن نے سنگین سوالات بھی اٹھائے۔ تعداد کے لحاظ سے یہ پہلے ہی طے تھا کہ تحریک عدم اعتماد مسترد ہو جائے گی۔ تاہم تقریباً 4 دہائیوں کے بعد کسی لوک سبھا اسپیکر کے خلاف لائی گئی تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ اپوزیشن نے اسپیکر اوم برلا کے مبینہ جانبدارانہ رویے اور ایوان کے نظم و نسق میں حکمراں فریق کی طرف جھکاؤ کو ملک کے سامنے ظاہر کر دیا۔
تحریک عدم اعتماد پر بولتے ہوئے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے اسپیکر اوم برلا پر انہیں اور اپوزیشن اراکین کو بولنے نہ دینے کا سنگین الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں جمہوری عمل اور اسپیکر کے کردار کے بارے میں بحث ہو رہی ہے۔ کئی بار میرا نام لیا جا رہا ہے، میرے بارے میں گندی باتیں کہی جا رہی ہیں۔ یہ ایوان ہندوستان کے لوگوں کے اظہار کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ ایوان کسی ایک پارٹی کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہے۔ جب بھی ہم بولنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو ہمیں بولنے سے روک دیا جاتا ہے۔ پچھلی بار جب میں نے اپنی بات رکھی تھی تو میں نے ہمارے وزیر اعظم کے کیے گئے ’سمجھوتوں‘ کے بارے میں ایک بنیادی سوال اٹھایا تھا، لیکن کئی بار مجھے بولنے سے روکا گیا ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار حزب اختلاف کے ائد کو ایوان میں بولنے نہیں دیا گیا۔ ہمارے وزیر اعظم ’کمپرومائزڈ‘ ہیں اور یہ سب جانتے ہیں۔
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ جب اسپیکر، جو ایوان کے ہر رکن کا نگہبان ہوتا ہے، غیر جانبدار رہنا چھوڑ دے اور حکمراں پارٹی کے سربراہ کی طرح کام کرے تو یہ سنگین تشویش کی بات ہے۔ حزب اختلاف کے قائد پارلیمانی نظام کا ایک ضروری حصہ ہے۔ لیکن یہاں جب حزب اختلاف کا قائد کھڑا ہوتا ہے تو مائک بند کر دیا جاتا ہے۔ نریندر مودی کی حکومت اس لیے پریشان ہے کیونکہ ہمارے اپوزیشن لیڈر میں سچ بولنے کی ہمت ہے۔ گزشتہ اجلاس میں حکومت نے پنڈت جواہر لال نہرو پر حملہ کیا، لیکن اب وہ ان کی تعریف کر رہے ہیں۔ ایک دن وہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے راہل گاندھی جی کی بھی تعریف کریں گے۔ معزز اسپیکر نے بیان دیا ہے کہ ہماری خاتون رکن پارلیمنٹ وزیر اعظم مودی کے خلاف کچھ بڑا منصوبہ بنا رہی تھیں۔ یہ اسپیکر کی طرف سے دیا گیا سب سے غیر ذمہ دارانہ بیان ہے۔ مودی حکومت سوچ رہی ہے کہ پارلیمنٹ صرف بی جے پی کے لیے ہے اور انہوں نے ملک کے پورے نظام کو ہائی جیک کر لیا ہے۔
کانگریس رکنِ پارلیمنٹ چرن جیت سنگھ چنّی نے اس بحث میں شریک ہوتے ہوئے کہا کہ تاریخ اور ہماری روایات میں ایسے بہت سے واقعات ہیں جو ہمیں وقار اور انصاف کی اہمیت سکھاتے ہیں۔ ’مہابھارت‘ میں جب دُریودھن نے دروپدی کا ’چیرہرن‘ کیا تو وہ اقدار، تہذیب اور پوری نسوانی طاقت کی توہین تھی۔ اس وقت وہاں موجود لوگ اسے روک دیتے تو ’مہابھارت‘ کی جنگ نہ ہوتی۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی آواز کو دبایا جاتا ہے، مائک بند کر دیا جاتا ہے۔ یہ جمہوریت کا ’چیرہرن‘ ہے، ملک کے جمہوری اقدار کا ’چیرہرن‘ ہے۔
اوم برلا کو اسپیکر عہدہ سے ہٹانے سے متعلق تحریک عدم اعتماد پر بحث کے دوران راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ابھے کمار سنہا نے کہا کہ مجھے افسوس ہے مسند اس غیر جانبداری سے محروم ہو گئی ہے جس کی توقع نہرو جی اور ہمارے دیگر آئین سازوں کو تھی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ حقیقی جمہوریت وہ ہے جس میں سب سے غریب اور کمزور شخص کو بھی محسوس ہو کہ اس کی آواز سنی جا سکتی ہے۔ یہاں جب بھی کوئی اپوزیشن رکن پارلیمنٹ بولنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اسے اسپیکر کی مسند سے صرف ’نو-نو‘ (نہیں) سننے کو ملتا ہے۔
جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے لیڈر وجے کمار ہنسدا نے اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ یہ لوک سبھا اسپیکر کے طور پر اوم برلا کی دوسری مدت ہے اور ملک کے پہلے وزیر اعظم نہرو کے نام کے ذکر کے بعد اس ایوان میں سب سے زیادہ بولا جانے والا لفظ ’نو‘ ہے۔ انہوں نے کہا ’’جب اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ بولتے ہیں تو انہیں روکا جاتا ہے اور یہ ایک روایت بن گئی ہے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔