لوک سبھا: ’خامنہ ای کو سلام، انھوں نے امریکہ کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے‘، آنند بھدوریا نے مودی حکومت کو دکھایا آئینہ
سماجودای پارٹی لیڈر آنند بھدوریا نے لوک سبھا میں مودی حکومت پر امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیکنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے گھٹنے ٹیکنے کی جگہ شہادت کو گلے لگایا۔
سماجوادی پارٹی رکن پارلیمنٹ آنند بھدوریا نے آج لوک سبھا میں اسپیکر اوم برلا کے خلاف لائی گئی عدم اعتماد کی تحریک پر بحث اپنی بات رکھتے ہوئے مرکز کی مودی حکومت کو کئی معاملوں میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے مرکزی حکومت پر امریکہ کے سامنے جھکنے کا سنگین الزام عائد کیا اور سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے آئینہ بھی دکھایا۔
آنند بھدوریا نے لوک سبھا میں کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا، انھوں نے شہادت کو گلے لگانا قبول کیا۔ دوسری طرف مودی حکومت نے امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیک دیے، کمپرومائزڈ ہو گئے۔ بھدوریا نے ایوان میں بہ آواز بلند کہا کہ مرکزی حکومت کو عوام کے سامنے یہ سچائی بتانی چاہیے کہ غزہ-اسرائیل جنگ کے بعد دنیا کے کون سے ملک کا وزیر اعظم اسرائیل دورہ پر گیا۔ انھوں نے یہ بھی جاننا چاہا کہ کس کے مشورہ پر پی ایم مودی نے جنگ کے دروازے پر کھڑے ملک کا دورہ کیا۔
بھدوریا نے ایوان زیریں میں اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو میں سلام کرتا ہوں۔ انھوں نے امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا اور شہادت کو گلے لگایا۔ آپ (مودی حکومت) نے تو امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ پی ایم مودی کو جنگ کے دروازے پر کھڑے اسرائیل کا دورہ پر بھیج کر ان کی سیکورٹی کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ اسرائیل بھیج کر وزیر اعظم کی جان کو جوکھم میں ڈالا گیا۔
سماجوادی پارٹی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ان کی پارٹی یا انھیں کوئی شکایت نہیں ہے، اور اسپیکر نے سماجوادی پارٹی چیف اکھلیش یادو کو ایوان میں بولنے کے لیے پورا وقت دیا ہے، لیکن بی جے پی کے اعمال کی وجہ سے اسپیکر اوم برلا کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی ضرورت پڑی۔ انھوں نے کہا کہ اوم برلا بذات خود ٹھیک ہیں، لیکن ان پر برسراقتدار طبقہ کا زبردست دباؤ ہے، جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی ٹھیک طرح نہیں چل رہی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔