اندور میں آلودہ پانی سے اموات: این ایچ آر سی کا از خود نوٹس، چیف سکریٹری سے دو ہفتوں میں رپورٹ طلب

اندور میں آلودہ پانی سے اموات اور درجنوں افراد کے بیمار پڑنے پر این ایچ آر سی نے از خود نوٹس لیتے ہوئے ایم پی کے چیف سکریٹری سے دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کی، معاملے کو حقِ حیات کی خلاف ورزی قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>این ایچ آر سی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی/اندور: قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے مدھیہ پردیش کے شہر اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں آلودہ پانی پینے سے ہونے والی اموات اور بڑی تعداد میں شہریوں کے بیمار پڑنے کے معاملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ کمیشن نے ریاست مدھیہ پردیش کے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

این ایچ آر سی کے مطابق میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بھاگیرتھ پورہ کے رہائشی کئی دنوں سے پانی کی بدبو اور آلودگی کی شکایت کر رہے تھے لیکن مقامی انتظامیہ کی جانب سے بروقت کارروائی نہیں کی گئی۔ بعد ازاں اسی آلودہ پانی کے استعمال سے متعدد افراد ڈائریا، الٹی اور دیگر آبی بیماریوں میں مبتلا ہو گئے، جن میں سے کئی کی جان چلی گئی۔


کمیشن نے اپنے ابتدائی مشاہدہ میں کہا ہے کہ اگر رپورٹ شدہ حقائق درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ ہندوستانی آئین کے تحت شہریوں کے حقِ حیات یعنی دفعہ 21، کی واضح خلاف ورزی ہے۔ این ایچ آر سی نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاملے کی مکمل جانچ کرائے، ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے اور متاثرہ خاندانوں کو مناسب راحت فراہم کرنے کی تفصیلات پیش کرے۔

پریس انفارمیشن بیورو کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مرکزی پانی کی پائپ لائن ایک عوامی بیت الخلا کے نیچے سے گزرتی ہے، جہاں رِساؤ کے باعث سیوریج کا پانی پینے کے پانی میں شامل ہو گیا۔ اس کے علاوہ علاقے میں کئی جگہ پانی کی سپلائی لائنیں ٹوٹی ہوئی پائی گئیں، جس سے آلودہ پانی براہِ راست گھروں تک پہنچتا رہا۔

اس سانحے میں اموات کی تعداد پر متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 4 سے 7 افراد کی موت کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ مقامی باشندے اور بعض میڈیا رپورٹس میں یہ تعداد 10 سے 13 بتائی جا رہی ہے، جن میں ایک چھ ماہ کا معصوم بچہ بھی شامل بتایا گیا ہے۔ سو سے زائد افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے معاملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو دو دو لاکھ روپے کی مالی امداد اور تمام مریضوں کے مفت علاج کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی ایک جانچ کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔ ادھر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے بھی ریاستی حکومت سے اس معاملے میں اسٹیٹس رپورٹ طلب کی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔